دُنیا کردوں کے حق خود ارادیت کے فیصلے کا احترام کرے: بارزانی

عوام کی بھاری اکثریت نے آزادی کی حمایت میں ووٹ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ 25 ستمبر کو صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں عوام کی بھاری اکثریت نے کردستان کی عراق سے علاحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کردوں کی علاحدہ ریاست کےقیام اور کرد آبادی کے حق خود ارادیت کے فیصلے کا احترام کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود بارزانی نے عراقی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ کرد عوام کے ریفرنڈم کے ذریعے سامنے آنے والے فیصلے کا احترام کرے، دھمکیوں کی زبان استعمال کرنے سے باز آئے اور کردوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی ترک کرے۔

ان کا اشارہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انہوں نے گذشتہ روز کرد حکومت سے کہا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر ہوائی اڈوں اور تمام بیرونی گذرگاہوں کا کنٹرول بغداد کے حوالے کردے ورنہ کردستان پر عالمی برادری کی جانب سے فضائی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

مسعود بارزانی نے کہا کہ کردوں کو اپنی علاحدہ ریاست قائم کرنے کا حق ہے اور یہ حق سنہ 2005ء میں تیار کردہ عراقی دستور میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے بعد کرد عوام ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ کرد عوام کی فتح ونصرت کا وقت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بغداد حکومت نے دستور پرعمل درآمد سے فرار اور شراکت کے اصول کی خلاف ورزی کی۔ ہم بغداد کے ساتھ مذاکرات کرنے اور اختلافات کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔

کرد رہ نما کا کہنا تھا کہ نئے عراق کی تشکیل میں کردوں کا کلیدی کردار ہے۔ کرد اور اہل تشیع کا آپس میں اتحاد قائم تھا مگر اسے ختم کرنے میں عراقی حکومت کا ہاتھ ہے۔

مسعود بارزانی نے کہا کہ کرد اور عرب بھائی بھائی ہیں۔ ہم پڑوسی ملکوں کے ساتھ تنازعات پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ میں کردستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size