ریفرینڈم : قریباً 93 فی صد عراقی کردوں کا’’آزاد ملک‘‘ کے حق میں ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں سوموار کو منعقدہ متنازع ریفرینڈم کے پہلے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق قریباً 93 فی صد عراقی کردوں نے خود مختار کردستان کی آزادی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

کردستان کے الیکشن اور ریفرینڈم کمیشن کے حکام نے بدھ کے روز علاقائی دارالحکومت اربیل میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ریفرینڈم میں کل 3305925 ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ ان میں سے 92.73 فی صد نے کردستان کی آزادی کے لیے ’’ ہاں‘‘ میں جبکہ 7.27 فی صد نے ’’ ناں‘‘ میں ووٹ دیا ہے اور کردستان کی آزاد وطن کے طور پر عراق سے علاحدگی کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 72.61 فی صد رہی ہے۔

ریفرینڈم میں کرد ووٹروں سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ کردستان کا خطہ اور اس سے باہر کردستانی علاقے ایک آزاد ملک بن جائیں۔ووٹروں نے اس سوال کے جواب میں’’ ہاں‘‘ یا ’’ناں‘‘ پر نشان لگانا تھا۔

واضح رہے کہ کردستان میں کل اندراج شدہ ووٹروں کی تعداد 53 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ خود مختار عراقی کردستا ن کے تین صوبوں اربیل ، سلیمانیہ اور دہوک اور ان سے متصل تیل کی دولت سے مالا مال صوبے کرکوک میں آزادی کے نام سے اس ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں 12072 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔سوموار کی شام پولنگ کا عمل مکمل ہوتے ہی آزادی ریفرینڈم کے حق اور مخالفت میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی تھی ۔

الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے چندے قبل ہی عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ’’ ہم ریفرینڈم کے نتیجے پر کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔اگر کرد بات چیت کا آغاز چاہتے ہیں تو پھر انھیں ریفرینڈم اور اس کے نتیجے کو منسوخ کرنا ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں