قطر کی نئی بوکھلاہٹ : "بائیکاٹ نے طاقتور کیا.. منصوبے مفلوج ہو گئے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج کے بحران کے آغاز کے بعد سے قطر کی جانب سے بوکھلاہٹ پر مبنی بیانات اور مواقف سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت میں قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ نے منگل کے روز کہا کہ پانچ جون سے چار عرب ممالک (امارات ، سعودی عرب ، بحرین اور مصر) کی طرف سے کیے گئے "محاصرے" نے قطر کو "پہلے سے بہت زیادہ طاقت ور بنا دیا ہے"۔

قطری وزیر کا یہ بیان 19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امیرِ قطر کے اُس خطاب کے متضاد ہے جس میں شیخ تمیم نے باور کرایا تھا کہ "ان کا ملک محاصرے کے سبب مشکلات سے دوچار ہے"۔

یاد رہے کہ قطری وزیر نے یہ بات منگل کے روز قطر میں ایک نجی یونی ورسٹی میں اپنے لیکچر کے دوران کہی۔

خالد بن محمد نے زور دے کر کہا کہ قطر نے ڈٹ جانے کے حوالے سے اپنی قدرت کو ثابت کیا ہے۔ غالبا قطری وزیر اُن متعدد اقتصادی رپورٹوں اور درجہ بندیوں کو بھول گئے جن میں بتایا گیا ہے کہ بائیکاٹ کے تین ماہ کے بعد قطر کی معیشت پیچھے رہ گئی ہے۔

ایسے میں جب کہ خالد بن محمد حالیہ بحران کے بعد دوحہ کی "قوت" اور مضبوطی کے گُن گا رہے ہیں.. دوسری جانب برسلز میں قطر کے سفیر عبدالرحمن بن محمد الخلیفی نے باور کرایا ہے کہ خلیجی بحران نے متعدد مشترکہ منصوبوں کو مفلوج کر دیا ہے جن کو خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں