عراق میں اجتماعی پھانسیوں کی نئی لہر پر اقوام متحدہ کی تشویش

قیدیوں کو سزائیں دینے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں گذشتہ اتوار کو وزارت انصاف وقانون کے حکم پر 42 قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عراقی حکومت جیلوں میں ڈالے گئے مزید افراد کو اجتماعی طور پر تختہ دار پر لٹکانے کی مصنوبہ بندی کرسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کشمنر برائے انسانی حقوق شہزادہ زید بن رعد الحسین نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ عراق میں حکام نے 42 قیدیوں کو بے دردی کے ساتھ اجتماعی انداز میں پھانسی کے گھاٹ اتار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو مشکوک انداز میں پھانسی دینے، ان کے شفاف ٹرائل نہ ہونے اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بغیر قیدیوں کو قتل کرنے سے عالمی ادارے کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی حکام کی طرف سے ایک ہی دن میں 42 قیدیوں کو پھانسی دینے کے واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ رعد الحسین کا کہنا ہے کہ انہیں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ عراقی حکومت سزائے موت کے قیدیوں کوعاجلانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتارنے کی تیاری کررہی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں مزید دسیوں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاسکتا ہے۔

رواں ماہ کے اوئل میں عراقی وزارت انصاف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں سزائے موت پانے والے 7 غیرملکی دہشت گردوں کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں