ایران نے دباؤ قبول کرلیا، تنصیبات کی معائنہ کاری پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے عالمی برادری کی طرف سے مشکوک جوہری اور فوجی تنصیبات کے معائنے کے مطالبے کے حوالے سے دباؤ قبول کرتے ہوئے عالمی توانائی ایجنسی کو اپنی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک فوجی اور جوہری پروگرام کے حوالے سےمتنازع سمجھی جانے والی تنصیبات کو عالمی معائنہ کاروں کے لیے کھولنے کو تیار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے نیویارک میں ایشیائی ریسرچ آرگنائزیشن سینٹر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک جوہری اور فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری اور ان کی کڑی نگرانی کے لیے تیار ہے۔

جواد ظریف نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ کے تازہ بیان سے ایک روز پیشتر عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف حساس تنصیبات تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دے بلکہ ان تنصیبات کی کڑی نگرانی کی اجازت فراہم کرے تاکہ اس امر کی تصدیق کی جا سکے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے کسی قسم کی لچک کا مظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنے کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ 15 اکتوبر تہران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں