.

حزب اللہ ملیشیا کے خلاف امریکا کی نئی پابندیاں

کانگریس کی خارجہ کمیٹی میں حزب اللہ کے خلاف دو بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹ نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر پابندیوں کے حوالے سے دو نئے بلوں کی منظوری دی ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت حزب اللہ کے مختلف اداروں اور تنظیم سے وابستہ شخصیات کو ہدف بنایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں حزب اللہ پر پابندیوں کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی ہے جب دوسری طرف حزب اللہ کی فیلڈ سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ پابندیوں کا مقصد بیرون ملک سے حزب اللہ کو ملنے والی امداد روکنا اور اس کی عسکری سرگرمیوں کو کم سے کم کرنا ہے۔

پابندیوں کے نئے پیکج میں حزب اللہ کے خلاف وسیع تر اقدامات شامل ہیں۔ حزب اللہ سے وابستہ کئی افراد کے اثاثے منجمد کرنے اور بیرون ملک حزب اللہ کو فنڈز کی فراہمی بند کرانے بالخصوص ایران اور اسد رجیم کی طرف سے حزب اللہ کی امداد کا راستہ روکنا ہے۔

حزب اللہ کے بیرون ملک موجود حامیوں کے اثاثے منجمد کرنا، انہیں امریکا کے سفر کے لیے ویزے جاری نہ کرنا، حزب اللہ کے زیرانتظام اداروں بالخصوص بیت المال، جہاد البناء، سپورٹ کمیٹی، شعبہ تعلقات عامہ، بیرونی سیکیورٹی آرگنائزیشن، المنار ٹی وی، النور ریڈیو اور کئی دوسرے ذرائع ابلاغ پر مالی پابندیاں عاید کرنا ہے۔

امریکا کی طرف سے یہ پابندیاں سنہ 2006ء کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا رد عمل کا حصہ ہیں۔