.

لیبیا : امریکی قونصل خانے پر حملے اور قبطیوں کے قتل کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں تحقیقات کے سربراہ "الصدیق الصور" نے ملک میں داعش اور القاعدہ تنظیموں کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں کی خفیہ تفصیلات پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

طرابلس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الصور نے اُن تحقیقات کے نتائج کا اعلان کیا جو سرت کی آزادی کے دوران پکڑے جانے والے داعش تنظیم کے عناصر سے کی گئیں۔ تحقیقات کے مطابق بنغازی ، صبراتہ ، سر ، درنہ اور لیبیا کے دیگر شہروں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے داعش تنظیم کا ہاتھ ہے۔

الصور نے اس امر کی تصدیق کی کہ لیبیا میں داعش تنظیم کے عناصر کی دراندازی سوڈان ، الجزائر ، تیونس ، مصر اور نائیجر سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بنغازی میں داعش کی بنیاد ڈالنے والا شخص محمود البرعصی ہے جس نے سیناء میں داعش کے ذمے دار عبداللہ السیناوی کی سپورٹ سے استفادہ کیا۔

الصور نے داعش کی بعض کارروائیوں کو گنواتے ہوئے بتایا کہ تنظیم ہی درنہ میں نیشنل جنرل کانگریس کی رکن فریحہ البرکاوی اور سابق اٹارنی جنرل عبدالعزیز الحصادی کی ہلاکت کی ذمے دار ہے۔

الصور نے 2012 میں بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ داعش میں شمولیت سے قبل ان عناصر کا تعلق انصار الشریعہ سے تھا اور یہ لوگ ایمن الظواہری سے براہ راست احکامات وصول کرتے تھے۔

علاوہ ازیں الصور نے لیبیا کے شہر سرت میں المہاری ہوٹل کے عقب میں مصری قبطیوں کے گلے کاٹے جانے کے واقعے پر سے بھی پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ افراد کی تدفین کی جگہ بھی شناخت کر لی گئی ہے۔ الصور نے ایتھوپیا کے مسیحی باشندوں کی گردنیں کاٹے جانے والے حادثے پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ لوگ غیر قانونی مہاجرین تھے جن کو داعش نے قتل کر ڈالا اور ان کی خواتین کو غلام بنا لیا۔

الصور کے مطابق تحقیقاتی بیورو کے پاس موجود معلومات سے 200 سے زیادہ واقعات رُونما ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

الصور نے مزید بتایا کہ سرت کی آزادی کے دوران گرفتار ہونے والوں میں داعش کے ارکان اور بنغازی دفاع بریگیڈز کے کئی جنگجو شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "لیبیا میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف لیبیا میں ہی قانونی کارروائی ہوگی جب کہ جن افراد نے لیبیا سے باہر جرائم کا ارتکاب کیا ہم ان کو اپنے حوالے کیے جانے کا مطالبہ کریں گے"۔

الصور نے اپنی بات کے اختتام پر بتایا کہ "سرت میں سیکڑوں لاشیں اسکولوں ، میدانوں اور ملبے کے نیچے دفن ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا سے باہر موجود 50 افراد کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان میں بعض لوگ شام اور عراق چلے گئے اور ہمیں ان کے بارے میں معلوم ہے"۔