.

عراقی کردستان کے آزادی ریفرینڈم کے نتائج تسلیم نہیں کرتے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ عراق کے شمال میں واقع صوبہ کردستان میں آزادی کی خاطر کرائے گئے حالیہ عوامی ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کردستان میں کرایا گیا آزادی ریفرینڈم یک طرفہ تھا جسے کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی حکومت نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور دھمکیوں سے گریز کریں تاکہ مفاہمت کی کوئی راہ نکل سکے۔

ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ کردستان میں آزادی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں کئی آئینی کم زوریاں ہیں اور اس کی آئینی حیثیت مشکوک ہے۔ امریکا متحدہ عراق کی حمایت کے ساتھ ملک میں جمہوریت کےفروغ کے لیے کوششیں جاری رکھےگا۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن عراق اور اس کے پڑوسی ممالک سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف کسی یک طرفہ کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یک طرفہ اقدامات کے منفی نتایج سامنے آ سکتے ہیں۔