.

قطر نے ایک اور قبیلے کے سردار کو شہریت سے محروم کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی جانب سے حکومت مخالف رائے رکھنے والے شہریوں کے خلاف انتقامی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دوحہ حکومت نے ایک دوسرے قبیلے شمل الھواجر کے سردار الشیخ شافی ناصر حمود الھاجری اور ان کے خاندان کی قطری شہریت بھی منسوخ کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الشیخ شافی الھاجری نے قطری حکومت کے پڑوسی خلیجی ممالک کے حوالے سے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ کی جانب سے خلیجی ممالک کی داخلی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے۔
سوشل میڈیا پر متاثرہ قبائلی رہ نما الشیخ الھاجری کے ساتھ یکجہتی کے لیے مہم شروع کی گئی

ٹوئٹر پر ’شیخ شمل الھواجر کی شہریت منسوخی‘ کےعنوان سے جاری مہم میں شہری بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ صارفین نے قطری حکومت کی جانب سے مخالف آراء رکھنے والوں کے خلاف انتقامی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ شمل الھواجر قبیلے کے سردار نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ قطر کی خلیجی ملکوں کے بارے میں پالیسی ان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہے۔

قبیلہ بنی ہاجر کے افراد پورے جزیرۃ العرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس قبیلے کے افراد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عراق، عمان، بحرین اور کویت میں بھی موجود ہیں۔

قطری حکومت کی جانب سے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں یہ دوسرے قبیلے کے خلاف انتقامی کارروائی کے تحت اس کے سردار اور اس کے خاندان کی شہریت کی منسوخی ہے۔ اس سے قبل دوحہ آل مرۃ قبیلے کے سردار الشیخ طالب بن لاھوم بن شریم اور ان کے 50 مقربین کی قطری شہریت منسوخ کر چکا ہے۔