.

امیر قطرکی پالیسیوں کے مخالف آل ثانی خاندان کے 20 افراد قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فرانسیسی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قطری حکومت نے امیر قطر کی خارجہ پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں حکمران خاندان آل ثانی کی 20 اہم شخصیات کو حراست میں لے رکھا ہے۔

فرانسیسی جریدے ’لی پوائنٹ‘ میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی خلیجی ممالک کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسی کی مخالفت کرنے والے حکمراں خاندان کے بیس افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا ہوا ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ’لی پوائنٹ‘ کو یہ معلومات قطر میں گرفتار ایک فرانسیسی سے ملی ہیں جس کا کہنا ہے کہ جیل میں اس کے ساتھ آل ثانی خاندان کے بیس افراد بھی قید ہیں۔

فرانسیسی جریدے نے ’امیر قطر اپنے خاندان کو بھی جیل میں ٹھونسنے لگے‘ کے عنوان سے شایع کی گئی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آل ثانی خاندان کے جن بیس افراد کو حراست میں لیا گیا وہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کے موقف کے حامی ہیں۔ انہیں صرف اس لیے حراست میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے کھل کر امیر قطر کی خطے کے ممالک کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔

’لی پوائنٹ‘ کے مطابق قطرکی ایک جیل میں قید فرانسیسی ’جان پییر مارونگی‘ نے بتایا کہ اس نے جیل میں آل ثانی کے بیس قیدیوں سے ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتیوں نے بتایا کہ عرب ممالک کی طرف سے دوحہ کے بائیکاٹ کے بعد حکومتی موقف کی مخالفت کرنے والوں کی گرفتاریوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے۔

فرانسیسی قیدی نے جیل میں ڈالے گئے آل ثانی خاندان کے چار افراد کے نام الشیخ طلال بن عبدالعزیز بن احمد بن علی آل ثانی، الشیخ عبداللہ بن خلیفہ بن جاسم بن علی آل ثانی، الشیخ علی بن فہد بن جاسم بن علی آل ثانی اور الشیخ ناصر بن عبداللہ بن خلیفہ بن علی آل ثانی بتائے ہیں۔ یہ تمام افراد آل ثانی خانی کی ذیلی شاخ بن علی سے ہیں۔

قیدیوں کا کہنا ہے کہ الشیخ عبداللہ بن علی آل ثانی نے گذشتہ اگست میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔