.

ایران کی جانب سے شام میں لڑنے کے لیے افغان بچوں کی بھرتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بچوں کو بھرتی کرنے اور شام میں جنگ کی بھٹی میں جھونک دینے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ ساتھ ہی ایران کو بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ممالک کی سالانہ فہرست میں شامل کیا جائے۔

تنظیم کی جانب سے اتوار کے روز جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھرتی کیے جانے والے بچوں کی عمریں 14 سال سے شروع ہوتی ہیں اور ان کو "فاطمیون" بریگیڈز میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ ایک افغان مسلح ملیشیا ہے جس میں تقریبا 14 ہزار جنگجو شامل ہیں۔ اس ملیشیا کو تہران کی سپورٹ حاصل ہے اور اس وقت یہ شام کے تنازع میں بشار حکومت کی افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں افغان بچوں کی قبروں کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔

قبروں کی تصاویر سے تنظیم نے آٹھ افغان بچوں کی تصدیق کی ہے جو شام میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ان کی قبروں پر موجود تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی عمر موت کے وقت 18 برس سے کم تھی۔

یاد رہے کہ ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق ایران میں 25 لاکھ سے زیادہ افغانی موجود ہیں۔

ان میں اکثریت کے پاس قیام کا اجازت نامہ نہیں ہے اور ان کو جنگوں اور تنازعات میں استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ نے ایران میں کئی ایسے افغان پناہ گزینوں کی بھی تصدیق کی جنہوں نے اس امید پر شام میں رضاکارانہ طور پر لڑائی میں حصہ لیا کہ ان کے اہل خانہ کی قانونی حیثیت میں ترمیم کر دی جائے گی۔