.

فلسطینی وزیراعظم کی 2015ء کے بعد غزہ آمد، حماس کی قیادت سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ دو سال کے بعد پہلی مرتبہ سوموار کے روز غزہ پہنچے ہیں اور وہ حماس کی قیادت سے نئی انتظامیہ سے متعلق امور پر بات چیت کررہے ہیں۔

رامی حمداللہ کے ہمراہ ان کی قومی اتحاد کی حکومت میں شامل متعد د وزراء اور غربِ اردن سے تعلق رکھنے والی فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ عہدے دار بھی غزہ آئے ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم اور ان کا وفد اسرائیل کے زیر انتظام ایریز بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہوا تو وہاں حماس کے زیر انتظام ایک چیک پوائنٹ پر سیکڑوں فلسطینی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

ان کی غزہ کی پٹی میں آمد کو حماس اور فتح کے درمیان مصالحت کی جانب اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔حماس نے گذشتہ ہفتے غزہ کی پٹی کا انتظامی کنٹرول رامی حمداللہ کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سنہ 2014ء میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حماس غیر مشروط طور پر غزہ کی پٹی میں اپنی انتظامیہ سے دستبردار ہو گئی ہے اور اس سے رامی حمداللہ کی حکومت کی اس علاقے میں بھی عمل دار ی کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔تاہم حماس کے تحت سکیورٹی فورسز کا چیک پوائنٹس اور دوسری تنصیبات پر کنٹرول برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی دھڑوں میں اختلافات کی خلیج پاٹنے سے صدر محمود عباس اسرائیل کی اس دلیل کا جواب دے سکیں گے کہ اس کا امن عمل میں کوئی مذاکراتی شراکت دار نہیں ہے۔اسرائیل فلسطینی دھڑوں میں اختلافات کو مذاکرات سے پہلوتہی کے لیے جواز کے طور پر پیش کرتا چلا آ رہا ہے۔