.

قطر داعش کے مسلح ارکان کو شام سے لیبیا منتقل کر رہا ہے : لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ لیبیا میں شدت پسندی پھیلانے کے لیے داعش تنظیم ، الاخوان کے دھڑوں اور القاعدہ کی پیروکار تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ ہو گیا ہے۔

انہوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ قطر داعش کے مسلح عناصر کو شام سے لیبیا منتقل کر رہا ہے اور لیبیا میں دہشت گرد جماعتوں کے لیے اس کی سپورٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

تیونس میں ہونے والی لیبیائی سیاسی مشاورت کے حوالے سے المسماری کا کہنا تھا کہ "ہم لیبیا میں امن کے واسطے کوششیں کر رہے ہیں"۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ لیبیا کے عسکری ادارے یا اس کی قیادت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

المسماری نے لیبیا کی قومی فوج کے کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر اور لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ کے درمیان آئندہ ملاقات کا بھی انکشاف کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنغازی میں داعش اور القاعدہ پر قابو پانے کے بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملیشیاؤں کو چھوڑ کر لیبیا کی قومی فوج میں شامل ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا کی فوج اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ قطر کی جانب سے لیبیا میں دہشت گرد تنظیموں کی سپورٹ کا اعلان کر چکی ہے اور اس سلسلے میں ثبوت اور دستاویزات بھی پیش کی گئی ہیں۔

خلیفہ حفتر نے رواں سال جولائی میں دوحہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لیبیا میں دہشت گردی کی سپورٹ کے حوالے سے قطر کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ قطر کے ساتھ تعلقات استوار کیا جانا ممکن نہیں کیوں کہ اس نے دہشت گرد تنظیموں کو مال اور ہتھیار فراہم کر کے لیبیا میں دہشت گردی اور انارکی پھیلانے میں حصہ لیا۔