.

البغدادی نے ذرائع ابلاغ اور فکری مراکز کو دھمکی کیوں دی؟

پے درپے شکست سے داعش تتر بتر ہوگئی مگر خطرہ ہنوز موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2014ء کو عراق کے شہر موصل کی جامع مسجد الکبیر کے منبر سے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی نے اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا جس کے بعد یہ تنظیم ڈرامائی انداز میں تیزی کے ساتھ شام اور عراق کے کئی علاقوں پر تیزی کے ساتھ پھیلتی چلی گئی۔

داعشی خلیفہ کی تقریر سے لے کر آج تک یہ تنظیم جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا ویب سائیٹس ’ٹویٹر‘، فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب کو اپنے وحشیانہ جرائم کی تشہیر کے لیے پوری قوت کے ساتھ استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔

دسمبر 2016ء کو لیبیا کے شہر سرت میں داعش کو کچل دیا گیا۔ اسی سال عراق کے شہر الرمادی، پھر عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو 2017ء کے وسط میں داعش کے چنگل سے آزاد کرایا گیا۔

اس وقت شام میں داعش کے گڑھ سمجھے جانے والے شہر الرقہ میں دہشت گرد گروہ کےگرد گھیرا تنگ ہوچکا ہے۔ شام کے مختلف شہروں میں داعش کو پہلے ہی شکست فاش اٹھانا پڑی ہے۔ ان لڑائیوں میں داعش کے بیشتر جنگجو ہلاک، زخمی، فرار یا گرفتار ہوچکے ہیں۔ یوں داعش کی افرادی قوت،دفاعی صلاحیت، نئے جنگجو بھرتی کرنے کی طاقت اور مالی وسائل غیرمعمولی حد تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود اس تنظیم سے دنیا کو لاحق خطرات موجود ہیں۔

اپنے سفاکانہ جرائم کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کا اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کرنے والی داعش اپنے منفی پروپیگنڈے کے فروغ کے لیے آج بھی ان ذرائع کا استعمال کررہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کی حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مبینہ صوتی ریکارڈنگ میں انہیں مرکزی دھارے میں شامل ذرائع ابلاغ اور فکری مراکز[تھینک ٹینکس] کو حملوں کا نشانہ بنانے کی تاکید کی ہے۔

البغدادی کے نام منوب اس آڈیو ٹیپ میں اسے یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ’ اے اسلام کے سپاہیو اور خلافت کی حمایت کرنے والو اپنے حملوں میں تیزی لاؤ اھل کفر کے ذرائع ابلاغ پر حملے کرو اور ان کے فکری جنگی کردار کوکا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح لڑائی لڑو‘۔

داعشی خلیفہ کی طرف سے عالمی ذرائع ابلاغ اور فکری مراکز پر حملوں کی یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب داعش کو شام وعراق سمیت دوسرے عرب ملکوں میں پے درپے شکستوں کا سامنا ہے۔ عراق کے شہر موصل میں داعش کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن سے لے کر اس کے اختتام تک پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی توجہ اس اہم معرکے پر مرکوز رہی۔ یہی وجہ ہے کہ البغدادی کو اس بات کا سخت غصہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ نے موصل کی جنگ میں داعش کی شکست وریخت کی خبریں کیوں نشر کیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے داعش کے بجائے عراقی فوج اور آپریشن میں حصہ لینے والی افواج کی کیوں حمایت کی۔

داعش کے ذرائع ابلاغ اور فورمز

ماضی میں داعش کی ماں قرار دی جانے والی تنظیم ’القاعدہ‘ کی ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کی پالیسی داعش سے مختلف رہی ہے۔ مگر داعش نے القاعدہ کی نسبت ذرائع ابلاغ کے استعمال کی طاقت کو دوگنا کردیا۔ داعش نے روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کو اپنے پروپیگنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔

شام میں داعش کے قیام کے ساتھ ہی ’الاعتصام فاؤنڈیشن‘ نامی ایک ابلاغی ادارہ قائم کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں ’الحیات فاؤنڈیشن‘ آن لائن ماہنامہ ’دابق‘ جس میں عربی زبان کے ساتھ متعدد غیرملکی زبانوں میں بھی داعش کی حمایت میں مضامین شائع ہوتے۔ اس کا پہلا آن لائن پرچہ جولائی 2014ء میں شائع ہوا۔ غالب امکان یہ ہے کہ عربی کے ساتھ انگریزی میں یہ پہلا ایڈیشن غیرملکی قیدیوں کی مدد سے تیار کرایا گیا تھا۔

داعش نے صوتی لہروں کے ذریعے اپنے پیغام کو عام کرنے کے لیے محدود فاصلے تک پیغام رسانی کی صلاحیت کے حامل ’البیان‘ ریڈیو کی نشریات شروع کیں۔ اسے موصل شہر سے انٹرنیٹ کے ذریعے نشر کیا جاتا۔ اس ریڈیو چینل کے متعدد ٹاور الرقہ میں بھی قائم کیے گئے۔ داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کی موت کے بعد آن لائن رومن جریدہ شروع کیا گیا۔

فرانسیسی زبان میں دارالاسلام میگزین، اجناد میڈیا پروڈکشن فاؤنڈیشن کا قیام 2014ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ ادارہ انگریزی، جرمن، فرانسیسی، روسی اور دیگر غیرملکی زبانوں میں داعش کی حمایت میں کتب کی اشاعت کےساتھ ویڈیو ترانے تیار کرنے کا کام کرتا رہا ہے۔ انگریزی زبان میں دابق میگزین، فرانسیسی دارالاسلام کے ساتھ ترکی میں قسنطنطینیہ میگزین اور ایک جریدہ روسی زبان میں بھی شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

’اعماق‘ داعش کی سرکاری نیوز ایجنسی کہلاتی ہے۔ سب سے پہلے اس کا ظہور 2014ء میں ہوا۔ اس کا مقصد داعش کی سیاسی اور عسکری نوعیت کی خبریں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر آن لائن شائع کرنا، لڑائی کے دوران حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کی نشرو اشاعت کے لیے سوشل میڈیا کے تمام چینل کا بھرپور استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

داعش کی فکری جنگ اور بڑی تشویش

داعش کی عسکری محاذ پر شکست کے بعد تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں کو عرب اور مغربی دنیا میں اسلام کی اعتدال پسندانہ مہمات سے خوف اور تشویش لاحق ہے۔ 21 جولائی 2017ء کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ’عالمی مرکزاعتدال‘ قائم کیا گیا۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد فکری اور نظریاتی محاذوں پر داعش اور القاعدہ جیسے گروپوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں فکری اور نظریاتی محاذوں پرشکست سے دوچار کرنا ہے۔

جہاں تک داعش کے ظہور، البغدادی کی فکر خلافت کا تعلق ہے تو اس کے پس پردہ نام نہاد عرب بہار جسے عرب دنیا میں اسلامی سیاسی نظام کی بقاء کی جنگ کے طور پر دیکھا گیا جیسے واقعات کے اثرات ہیں۔ اس کے علاوہ خمینی اور سنی سیاسی اسلام کے پرچارک عناصر نے نام نہاد خلافت اسلامیہ کے ظہور کا دعویٰ کیا اور ایک امت واحدہ کے قیام کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ مگر حقیقت میں یہ عالم اسلام کے سیاسی اورفکری اتحاد کی کوشش نہیں بلکہ عرب بہاریہ کے دائیں بازو کے مسلح گروپوں کی اپنی بالادستی کی جنگ ہے۔ اس جنگ کو فکری خوراک دینے والوں میں مصر کی اخوان المسلمون بھی ہمیشہ پیش پیش رہی۔

جہادی کنفیڈریشن

عرب دنیا میں چند سال قبل شروع ہونے والی تبدیلی کی تحریک کو ’عرب بہاریہ‘ کا نام دیا گیا۔ مگر یہ تحریک جہادی تنظیموں اور مسلح جدوجہد کرنے پر یقین رکھنے والی جماعتوں پر مشتمل ایک جہادی کنفیڈریشن کی مہم تھی جس کا اظہار کچھ عرصہ قبل بھارتی شدت پسند مبلغ علامہ سلیمان ندوی نے کیا۔ سلیمان ندوی حال ہی میں قطر میں علامہ یوسف القرضاوی کے مہمان بنے تھے۔

البغدادی کومبارک باد دینے والوں میں پہل کرنے میں سلیمان ندوی بھی شامل رہے۔ انہوں نے نہ صرف داعش کی خلافت کو تسلیم کیا بلکہ کھل کر اس کی حمایت کی۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی قیادت کو مکتوبات لکھےجن میں وہاں کی حکمران قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ داعش کی فکر اپناتے ہوئے البغدادی کی حمایت کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ عالم اسلام کے علماء کو ایک فورم پر جمع کرکے انہیں داعش کی حمایت پر قائل کیا جائے۔ داعش اور اس قبیل کے دوسرے جہادی گروپوں پر دہشت گردی کا لیبل نہ لگایا جائے۔ سعودی عرب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ داعش سےتعلق رکھنے والے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ بند کرے۔

اسلام کی بنیاد پرست تنظیموں اور سیاسی اسلام کے پرچارک گرپووں کو بہ خوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں، قطر کا چار عرب ممالک کی طرف سے جاری بائیکاٹ، عالمی برادری کی جانب سے سعودی عرب کے موقف کی حمایت کے بعد ان [بنیاد پرست] قوتوں کو سنگین چیلنج درپیش ہے۔ انہیں فکری محاذ پر بدترین شکست کا سامنا ہے۔