.

ایران کے ساتھ تعلّق قطر کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بحران کی ایک اہم وجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سلطنت عُمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ قطری بحران کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

قطر کو اپنے اور تہران کے درمیان ہاٹ لائن فعّال کرنے کے لیے گروپ چار کے عرب ممالک کے ساتھ بحران کی ضرورت نہیں تھی۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے قول کے مطابق عرب ممالک کے "محاصرے" نے ان کے ملک کو ایران کی جانب بڑھنے پر مجبور کیا۔ البتہ شیخ تمیم یہ بھول گئے کہ دوحہ کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مسئلے میں ایران ایک اہم سبب ہے۔

امیرِ قطر کا وہ خطاب جو بحران کی وجہ بنا اس میں تہران کی بڑی مدح سرائی کی گئی تھی۔ شیخ تمیم کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جارحیت دانش مندی نہیں اور وہ ایک بڑی قوت ہے جس کے ساتھ تعاون کے ذریعے خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

جون کے پہلے ہفتے میں قطر کے خلاف بائیکاٹ کے آغاز کے وقت سے دوحہ نے اسی تعاون سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس طرح اسے ایران اور اس کی فضاؤں اور علاقائی پانی کی شکل میں سہارا مل گیا اور غالبا ایسی پیٹھ بھی جس پر سوار ہو کر وہ اپنے پڑوسی خلیجی ممالک کے خلاف جارحیت پر ڈٹا رہے۔

قطر نے ایران کے مزید قریب ہونے کے لیے اگست کے اواخر میں تقریبا ڈیڑھ سال بعد اپنے سفیر کی تہران واپسی کا اعلان کر دیا اور ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک نے دوحہ کے موقف پر افسوس کا اظہار کیا۔ اگرچہ تہران پر دہشت گردی کی سپورٹ ، کئی عرب ممالک کے معاملات میں مداخلت اور یمن اور شام جیسے ممالک میں عدم استحکام کا ذمے دار ہونے کے الزامات ہیں تاہم قطر کی آنکھوں پر پڑی "خوش نودی" کی پٹّی نے دوحہ کو ایران کو ایک "معزّز" ریاست خیال کرنے پر مجبور کر دیا۔