.

داعش نے شامی دارالحکومت میں خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی

دیرالزور میں روسی لڑاکا طیاروں کے حملوں میں داعش کے 304 جنگجو ہلاک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے دارالحکومت دمشق میں سوموار کے روز ایک پولیس اسٹیشن پر دو خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اس حملے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عراق کے وزیر داخلہ محمد الشعار نے بتایا کہ جنگجوؤں نے دمشق کے علاقے المیدان میں واقع پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا اور ان کی وہاں پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ ان کے بہ قول ایک حملہ آور نے پہلے پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔ پھر دوسرا عمارت کے اندر داخل ہوگیا تھا۔پولیس اہلکاروں نے اس کو گولی مار دی جس سے اس کے جسم کے ساتھ بندھا بم دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔

ان دونوں بم دھماکوں سے پولیس تھانے کی عمارت کے نچلی منزل کو نقصان پہنچا ہے اور عمارت کے ایک طرف کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔داعش کی خبررساں ایجنسی اعماق نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے میدان میں حملہ کیا تھا لیکن اس نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

داعش کی ہلاکتیں

دریں اثناء روسی فوج نے کہا ہے کہ اس ہفتے کے دوران میں شام کے مشرقی علاقوں میں اس کے فضائی حملوں میں داعش کے تین سو سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔اس کو روس کی فضائی مدد حاصل ہے۔روسی لڑاکا طیارے داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کررہے ہیں اور ان حملوں کی بدولت ہی شامی فوج تیزی سے داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہورہی ہے۔

روسی وزارت دفا ع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دیرالزور کے نواح اور دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں داعش کے تین سو چار جنگجو ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں میں داعش کے ایک تربیتی مرکز ، توپ خانے ،ٹینکوں اور اسلحہ ڈپووں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

ادھر کرد ملیشیا کی قیادت میں شامی جمہوری فورسز بھی داعش کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔عرب اور کرد جنگجوؤں کو امریکا کی قیادت میں داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے اور اتحادی طیارے بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔