.

شامی "دوستانہ" حملے میں ریکارڈ ہلاکتیں ہوئیں: حزب اللہ میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز ڈرون طیارے کی بم باری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔ ہلاک شدگان میں حزب اللہ کے بعض ارکان شامل ہیں جب کہ بقیہ افراد کا تعلق شامی حکومت کی فوج کی "حلیف فورسز" سے ہے۔

حزب اللہ کے زیر انتظام روزنامے "الاخبار" نے منگل کے روز اپنی اشاعت میں کہا ہے کہ ماضی میں بھی دوستانہ فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر اتنی بڑی تعداد میں یعنی 30 کے قریب ہلاکتوں کا واقع ہونا اپنی نوعیت کا غیر مسبوق واقعہ ہے۔

اخبار نے تصدیق کی ہے کہ بم باری کرنے والا ڈرون طیارہ "روسی فضائیہ" کا ہے۔

اخبار کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے "روسی شامی اور لبنانی" اہل کاروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز ایک "نامعلوم" ڈرون طیارے نے مشرقی حمص کے دیہی علاقے السخنہ میں بشار کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی "حزب اللہ" ملیشیا کے ارکان پر بم باری کی۔ دوسری جانب حزب اللہ کے میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حمص کے دور دراز دیہی علاقے "حمیمہ" میں ہوا۔

حالیہ کچھ عرصے سے شام کے دیہی علاقوں میں حزب اللہ کی ہلاکتوں کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ کچھ روز قبل داعش تنظیم کی کارروائی میں ایک ہی باری میں حزب اللہ کے 14 ارکان مارے گئے تھے۔

حزب اللہ اُن درجنوں ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے جن کو ایران نے بشار کے لیے لڑنے کے واسطے ایران بھیجا۔ اس سلسلے میں دیر الزور ، حماہ ، الرقہ اور السویداء کے علاقوں میں حزب اللہ بشار فوج کے ہمراہ موجود ہے۔