.

شام میں صدر بشارالاسد میدان مار رہے ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں بول پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بشار الاسد شام میں جاری خانہ جنگی میں ’’ فتح یاب‘‘ ہورہے ہیں اور اب وہ اپنے سابق دشمنوں کا پیچھا کررہے ہیں۔

مسٹر ایویگڈور نے اسرائیل کی ایک خبری ویب گاہ ’’ والا‘‘ سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’بشار الاسد جنگ میں ایک فاتح کے طور پر سامنے آئے ہیں اور اچانک ہر کوئی ان کے نزدیک آنا چاہتا ہے‘‘۔

’’ میں دیکھ رہا ہوں کہ اب ممالک کی ایک لمبی قطار ہے جو بشارالاسد کی مدح سرائی کررہے ہیں۔ان میں مغرب اور اعتدال پسند مسلم ریاستیں بھی شامل ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

روس کی شام میں 2015ء میں فوجی مداخلت کے بعد سے صدر اسد کی قسمت میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔روسی کمک آنے کے بعد شامی فوج اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکی ہے۔اس نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں باغی گروپوں کے خلاف لڑائی میں پے در پے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور باغیوں کے زیر قبضہ کئی بڑے شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اسرائیل ماضی میں بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن وہ پڑوسی ملک میں جاری خانہ جنگی میں کوئی زیادہ ملوث نہیں ہوا ہے۔ البتہ اس کے لڑاکا طیارے حزب اللہ کے جنگجوؤں یا ایرانی کمانڈروں پر حملے کرتے رہے ہیں اور اسرائیل نے شام میں اسلحہ ڈپووں کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

اس نے شامی صدر کے حامی ملک ایران پر لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو جدید ہتھیار منتقل کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اسی کو جواز بنا کر شام فوجی قافلوں یا فوجی تنصیبات پر بمباری کی تھی ۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ سال ایک بیان میں شام میں ان فضائی حملوں کا اعتراف کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام اور اسرائیل ٹیکنیکل طور پر ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں اور صہیونی ریاست جنگ زدہ ملک میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ونفوذ پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔

لائبرمین نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکیوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے ذریعے ایرانی خطرے سے نمٹا جاسکے گا اور اس سے ایک توازن قائم کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا مشرق ِ وسطیٰ میں عمومی طور پر اور شام کے محاذ پر خصوصی طور پر زیادہ فعال ہوگا۔ہم روسیوں ، ایرانیوں ، ترکوں اور حزب اللہ کے خلاف شمالی محاذ پر نبرد آزما ہیں‘‘۔