.

مصالحتی معاہدے پر عمل درامد 3 مرحلوں میں ہو گا : فلسطینی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکومت کے ترجمان یوسف المحمود کا کہنا ہے کہ "غزہ پٹی کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے مگر وہ عنقریب ایک مرتبہ پھر غزہ پٹی منتقل ہو جائے گی"۔ انہوں نے یہ بات 2014 کے بعد غزہ پٹی میں فلسطینی حکومت کے پہلے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

فلسطینی مصالحت کے لیے یہ سنجیدہ کوشش حماس اور فتح تنظیموں کے درمیان تقریبا دس برس کے بائیکاٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ 2007 میں خون ریز جھڑپوں کے نتیجے میں فتح تحریک کو نکال دینے کے بعد سے غزہ پٹی پر حماس تنظیم کا کنٹرول ہے۔

ادھر اسرائیل نے دس برس سے غزہ پٹی کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ بیرونی دنیا میں جانے کے لیے رفح کی گزرگاہ واحد راستہ تھا جو اس وقت بند ہے۔ اس کے نتیجے میں غزہ پٹی میں سماجی مسائل اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ غزہ پٹی کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔

یوسف المحمود نے صحافیوں کو بتایا کہ مصالحت کا معاہدہ تین مرحلوں پر مشتمل ہو گا۔ اس میں گزرگاہوں ، بجلی ، پانی کے مسائل اور دیگر معاملات کے حل کے لیے کام شروع کرنے کے واسطے کمیٹیوں کی تشکیل شامل ہے۔

المحمود نے واضح کیا کہ حکومت نے غزہ پٹی کی فوری ضروریات کے بارے میں ابتدائی رپورٹیں تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے غزہ پٹی کی صورت حال کو "الم ناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان معاملات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کرنا ہوں گی تاہم حکومت اس کے لیے پر عزم ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ مصالحتی اقدامات مصری کی خصوصی کوششوں کا ثمر ہے۔

توقع ہے کہ رام اللہ کے دورے کے بعد مصری انٹیلی جنس کے وزیر خالد فوزی منگل کو غزہ پہنچیں گے جہاں وہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور فسلطینی وزیراعظم رامی الحمداللہ سے ملاقات کریں گے۔