.

ترک نواز شامی باغی ادلب میں نئی کارروائی کررہے ہیں: صدر طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اطلاع دی ہے کہ انقرہ نواز شامی باغی انتہا پسندوں کے زیر قبضہ صوبے ادلب میں ایک نئی کارروائی کررہے ہیں۔

انھوں نے ترکی کے مغربی شہر عافیون میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم ادلب میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئے اقدامات کررہے ہیں۔آج ادلب میں ایک بڑی سنجیدہ کارروائی شروع کردی گئی ہے اور یہ جاری رہے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال پڑوسی صوبے حلب سے ہزاروں شامی اپنا گھر بار چھوڑ کر ادلب میں آ بسے تھے اور ترکی انھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

ترکی قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں مذاکرات میں طے پائے امن سمجھوتے کے تحت ادلب میں بھی روس کے ساتھ مل کر غیر جنگی علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا مقصد شام میں جاری خانہ جنگی کا مرحلہ وار خاتمہ کرنا ہے۔

ادلب کے بیشتر علاقوں پراس وقت ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جبھۃ فتح الشام کے زیر قیادت باغی جنگجوؤں کے اتحاد ہیئت تحریرالشام کا کنٹرول ہے۔ یہ اتحاد روس ، ترکی اور ایران کی ثالثی کے نتیجے میں طے شدہ امن سمجھوتے کا حصہ نہیں ہے۔اس کے تحت شام میں چار ’’ غیر جنگی علاقے‘‘ قائم کیے جارہے ہیں اور ان میں ایک ادلب میں قائم کیا جائے گا۔

صدر ایردوآن نے ہفتے کے روز سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی اس تقریر میں کہا کہ ’’ ہم اپنی سرحدوں کے ساتھ یقینی طور پر دہشت گردی کی ایک راہداری نہیں بننے دیں گے‘‘۔

جیش الحر کی قیادت میں کارروائی

ترک صدر نے بعد میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ادلب میں شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی قیادت میں کارروائی جاری ہے اور فی الوقت ترک فوج وہاں کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران میں ترکی نے اپنے سرحدی علاقے میں بھاری فوجی مشینری اور بڑی تعداد میں فوجی نفری تعینات ہے۔ ترک فوج نے اس سال کے اوائل میں شام کے شمالی صوبے حلب میں جنگجوؤں اور کرد ملیشیا کے خلاف گذشتہ کئی ماہ سے جاری آپریشن فرات کی ڈھال ختم کردیا تھا۔اس کارروائی میں ترک فوج اور شامی باغیوں نے حصہ لیا تھا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ادلب میں کارروائی فرات کی ڈھال آپریشن ایسی ہوگی؟ تو اس کے جواب میں انھوں نے صرف یہ کہا:’’ جب آپ باکسنگ کے اکھاڑے میں داخل ہوتے ہیں تو پھر آپ اپنے مُکّے شمار نہیں کرتے ہیں‘‘۔