.

خلیجی بحران، قطرکی عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی داؤ پر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کے تین بڑوسی خلیجی ممالک اور مصرکے ساتھ جاری سفارتی اور تجارتی بحران سے دوحہ کا بہت کچھ داؤ پرلگا ہوا ہے۔ ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر اور دوسرے ملکوں کےدرمیان جاری سفارتی تنازع کے نتیجے میں قطر کوسنہ 2022ء کے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے’بی بی سی‘ کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے بعد عالمی کپ کی تیاری کے لیے کام کرنے والی کئی تعمیراتی کمپنیوں نے کام روکنے پرغور شروع کیا ہے۔ عالمی تعمیراتی کمپنیوں کے مطابق بین الاقوامی فرموں کو خدشہ ہے کہ اگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ دوحہ کا بحران برقرار رہتا ہے قطر کے لیے ان تعمیراتی کمپنیوں کو رقوم کی ادائی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاری میں سرگرم کمپنیوں کو جاری منصوبوں میں کرپشن کے شبہات کا بھی سامنا ہے۔

لندن میں قائم ’کارنر سٹون‘ نامی کمپنی کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی فٹ بال ورلڈ کپ کمیٹی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کے ساتھ بحران کے باعث قطر عالمی کپ کی میزبانی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس بحران کے باعث 2022ء کے عالمی ورلڈ کپ کی قطری میزبانی خطرے میں ہے۔

مغربی سفارت کاروں نے ’کارنر سٹون‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا قطر سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا یا نہیں۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فٹ بال کپ کی میزبانی چھن جانے کے کئی ممکنہ اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سبب قطر کا دوسرے عرب ممالک کے ساتھ جاری بحران ہے جس کے باعث قطر کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فٹ بال کپ کی تیاری کے لیے جاری منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ میں دوحہ میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو خبردار کیا گیا ہے وہ مستقبل کے حالات کو سامنے رکھ کر قطر میں تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیں کیونکہ دوحہ میں کام مشکل اور پیچیدہ ہے۔ کمپنیوں کو بہت سی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی مشکل حکومت کی طرف سے ٹھیکوں کی رقوم کی عدم ادائیگی بھی ہوسکتی ہے۔ قطر اس وقت خلیجی ممالک کےساتھ بحران سے گذررہا ہے اور امکان ہے کہ کسی بھی وقت بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن 2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی قطر سے واپس لینے کا اعلان کرسکتی ہے۔ قطری حکام پرفٹ بال کپ کے ڈھانچے کے لیے جاری منصوبوں میں کرپشن کے الزامات بھی عاید کیے گئے ہیں۔