.

شاہ سلمان کا دورہ روس : عسکری نظاموں کو مقامی سطح پر لانے کا راستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاہ سلمان کے روس کے تاریخی دورے نے جدید عسکری نظاموں کو مقامی سطح پر لانے کی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریاض اور ماسکو کے درمیان اسلحے کے غیر مسبوق نوعیت کے سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔

اس سلسلے میں کرملن نے جمعے کے روز باور کرایا کہ سعودی عرب کے ساتھ شروع ہونے والا یہ تعاون دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے جاری رہے گا۔

عسکری مصنوعات کی سعودی کمپنی "SAMI" نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد مملکت میں عسکری نظاموں اور اسلحے کی صنعت کے سیکٹر کو ترقی دینا ہے۔ اس کے علاوہ روزگار کے سیکڑوں براہ راست مواقع یقینی بنانے کے واسطے عسکری صنعت کے شعبے میں قومی سطح پر اہل کاروں کی تعلیم و تربیت کے پروگرام بھی شامل ہیں۔

مذکورہ تاریخی دورنے کے نتیجے میں عکسری تعاون کے میدان میں مشترکہ معاہدوں کا ایک پیکج سامنے آیا ہے۔

ان معاہدوں میں درجِ ذیل امور شامل ہیں :

ٹکنالوجی کی مملکت منتقلی کا منصوبہ اور مفاہمتی یادداشت جس میں مقامی سطح پر شمولیت کے تناسب کی ضمانت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ سعودی ویژن 2030 کی مناسبت سے سے سمجھوتوں میں شامل تیس سے پچاس فی صد نظاموں کو مقامی بنایا جائے گا۔ روس ہتھیاروں کی ڈیزائننگ ، انجینئرنگ ، تیاری اور پیش رفت کے لیے مطلوب فنّی جان کاری اور ٹکنالوجی کو منتقل کرنے کا پابند ہو گا۔

مفاہمتی یادداشت میں یہ بھی شامل ہے کہ فریقین مختلف عسکری نظاموں اور ہتھیاروں کی صنعت کو مقامی سطح پر یقینی بنانے کے واسطے ایک منصوبہ وضع کرنے میں تعاون کریں گے۔ ان میں جدید(S-400) فضائی دفاعی نظام ، کورنیٹ ای ایم نظام ، ٹوس- وَن اے میزائل لانچر ، (AGS-30) گرینیڈز لانچر اور اے کے -103 کلاشنکوف اور اس کا گولہ بارود شامل ہے۔

اس بات کی بھی توقع ہے کہ نئے معاہدون سے روزگار کے تقریبا 3 ہزار بلا واسطہ یا بالواسطہ مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سلسلے میں سعودی کمپنی SAMI سال 2030 تک روزگار کے 40 ہزار بلا واسطہ اور 30 ہزار بالواسطہ مواقع فراہم کرے گی۔

علاوہ ازیں مذکورہ معاہدوں کے نتیجے میں سال 2030 تک مملکت کی مجموعی مقامی پیداوار کی مالیت میں 30 کروڑ ریال کا اضافہ ہو گا۔

مزید یہ کہ اعلی سطح کی تعلیم و تربیت کے پروگراموں کی فراہمی سعودی کمپنی SAMI کی حکمت عملی کا ایک بنیادی حصہ ہو گی۔