.

اِدلِب میں فوجی آپریشن.. امریکیوں کی حمایت ہے شرکت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع نے شام کے علاقے اِدلب میں ترکی کے زیر سرپرستی فوجی کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس حوالے سے پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ " ترکی کے علاقوں پر دہشت گردوں کا قبضہ روکنے کے لیے نیٹو میں اپنے حلیف انقرہ کی کوششوں کو سپورٹ کر تا ہے"۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے شامی اپوزیشن کی فورسز کے تعاون سے اِدلِب کے شمال مغرب میں ایک سنجیدہ عسکری کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ ایردوآن کے مطابق یہ آپریشن شام کے مذکورہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے نیا اقدام ہے۔ ترکی کے صدر نے وعدہ کیا کہ ان کا ملک شہریوں کو وہاں نہیں چھوڑے گا۔

ادھر امریکی وزارت دفاع میں شام ، عراق اور داعش کے خلاف لڑائی سے متعلق امور کے ترجمان ایرک بیہون نے "العربیہ" کو بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں بتایا کہ "امریکا فی الحال اس آپریشن میں شریک نہیں ہے"۔

ترکی کے صدر کے مطابق شامی اپوزیشن کی جیشِ حُر فورسز اس کارروائی کو آگے لے کر چل رہی ہیں جب کہ شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوج نے سرحد پر سے بعض چوکیوں کو ہٹا دیا ہے تا کہ سرحد کے راستے نقل و حرکت آسان ہو جائے۔ ترکی کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے علاقے کا دورہ کیا۔ اس دوران بری اور فضائی فوج کے کمانڈر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

امریکی وزارت دفاع نے شامی حکومت پر اِدلب کی صورت حال یہاں تک پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ پینٹاگون ترجمان ایرک بیہون کے مطابق بشار حکومت نے "شام کے شمال مغربی علاقے کو القاعدہ کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے دیا جو نہ صرف شامی عوام اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین دہشت گردی کے بین الاقوامی نیٹ ورکوں کو بھی سپورٹ کر رہے ہیں"۔

یہ بات معروف ہے کہ ترکی اور شامی اپوزیشن کی فورسز کے زیر قیادت یہ آپریشن شمالی شام میں دوسری کارروائی ہے۔ ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے عین العرب اور اعزاز کے علاقوں کے بیچ سرحدی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جب کہ داعش تنظیم جنوب کی سمت پیچھے ہٹ چکی ہے۔ آستانہ مذاکرات میں ترکی نے روس اور ایران کے ساتھ مل کر سیف زون کے علاقوں پر اتفاق رائے کیا تھا۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ اِدلِب صوبہ اور عسکریت پسند تنظیم النصرہ کا مقابلہ کرنا ترکی کے نصیب میں آیا۔

امریکی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں باور کرایا ہے کہ وہ النصرہ تنظیم کے حوالے سے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ شام میں القاعدہ کی شاخ اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل النصرہ تنظیم جو جبہۃ الشام کے نام سے بھی جانی جاتی ہے ، اس کے متعلق ایرک کا کہنا ہے کہ " یہ تنظیم القاعدہ کے مقاصد اور دہشت گردی کے پروگرام میں شریک ہے جب کہ شامی عوام اس میں کسی طور شریک نہیں ہیں"۔