.

بغداد نے کردستان کے ساتھ کسی بھی اتفاقِ رائے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کی جانب سے اُس اعلان کی تردید کی گئی ہے جس میں کردستان حکومت نے اپنے صدر مسعود بارزانی کی عراقی صدر کے دو نائبین ایاد علاوی اور اسامہ النجیفی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ فریقین کے درمیان بات چیت شروع کرنے اور کردستان پر عائد پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

بغداد میں پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی شخصیت یا سیاسی گروپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے اختیار دیے جانے کے بغیر کردستان کے ساتھ بات چیت کرے۔

ایسے میں جب کہ کردستان ریفرینڈم کے پس منظر میں بغداد اور اربیل حکومتوں کے درمیان سخت تناؤ پایا جا رہا ہے.. کردستان پریذیڈنسی کی جانب سے بحران کے حل تک پہنچنے کے اچانک اعلان نے سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

کردستان پریذیڈنسی کی ویب سائٹ کے مطابق بارزانی ، علاوی اور النجیفی کے درمیان تین فریقی ملاقات کے نتیجے میں کئی فیصلے انجام پائے۔ ان میں بات چیت شروع کرنے کی ضروت اور اہم ترین پہلو کردستان پر سے فوری طور پر پابندیاں اٹھانے کا معاملہ شامل ہے۔ تاہم بغداد کی جانب سے فوری طور پر اس اعلان کی یکسر تردید کر دی گئی۔

علاوی اور النجیفی کے زیر قیادت سیاسی اتحادوں نے مذکورہ فیصلوں کے بارے میں اپنی لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یک طرفہ قرار دیا۔

ادھر بغداد نے ایک مرتبہ پھر اس موقف کو دُہرایا ہے کہ کردستان کی جانب سے ریفرینڈم کے نتائج کو منسوخ کیے جانے تک اربیل حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کا امکان نہیں۔ بغداد حکومت ریفرینڈم کے نتائج معطل کرنے کو بھی قبول کرنے پر کسی طور تیار نہیں ہے۔

اس سلسلے میں عراقی رکن پارلیمنٹ عبدالکریم عبطان کا کہنا ہے کہ " بات چیت آئین کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے جس میں بیرونی مداخلت کا کوئی عنصر نہ ہو"۔ عبطان نے خبردار کیا کہ علاحدگی سے متعلق ریفرینڈم اندرونی لڑائی کا موجب بن سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق اندرونی لڑائی کی آگ بھڑکی تو کرکوک صوبہ سب سے پہلے لپیٹ میں آئے گا۔ اسی ضمن میں وہاں کے عرب قبائل نے سیاسی تنازعات سے دُور رہنے کی اپیل کی ہے۔