.

لیبیا: قبطیوں کے قتل عام کے نئے لرزہ خیز انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فروری سنہ 2015ء کو سرت شہر میں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے دہشت گردوں کی جانب سے قبطی عیسائیوں کو اجتماعی طور پرذبح کیے جانے کے واقعے کے مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی قومی حکومت کی جانب سے داعش کے خلاف شروع کیے گئے ’البنیا المرصوص‘ آپریشن کے میڈیا سیل نے ایک گرفتار داعشی جو قبطیوں کےقتل عام کے واقعے کا عینی شاہد بھی تھا کے اعترافات پر مبنی ایک انٹرویو جاری کیا ہے۔

مرکز کی رپورٹ کے مطابق گرفتار داعشی دہشت گرد نے مقتول قبطیوں کی قبروں کی نشاندہی کی۔ اس نے بتایا کہ کس طرح داعش کےایک دہشت گرد نے مصر کےقبطی عیسائیوں کوخون میں نہلانے کے ساتھ وقتل کے بھیانک واقعے کی ایک ویڈیو بھی تیار کرکے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی تھی’خونی پیغام‘ کےعنوان سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں قبطیوں کو موت کےگھاٹ اتارے جانے کے لرزہ خیز واقعےکے مناظر کے ساتھ دہشت گردوں کے پیغامات بھی شامل کیے گئے تھے۔

گرفتار داعشی نے بتایا کہ قبطی عیسائیوں کو ذبح کیے جانے کےبعد ان کی لاشیں جنوبی سرت میں ایک کھلے میدان میں دفن کردی گئی تھیں۔

جنگ جو کے مطابق قبطیوں کے قتل کا واقعہ دسمبر 2016ء کے آخر میں پیش آیا۔ تنظیم کے امیگریشن دفترکے امیر ھاشم ابو سدرہ نے ایک گاڑی تیار کرنے کا حکم دیا جس میں قتل کے آلات کے ساتھ دیگر چیزیں مہیا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد ابو سدرہ خود بھی المہاری ہوٹل کے عقب میں ساحل سمندر کی طرف اس گاڑی پر روانہ ہوا۔

جب جنگجوؤں نے تمام تیاری مکمل کرلی تو یرغمال بنائے گئے 21 قبطیوں کو نارنگی رنگ کے لباس پہنائے گئے۔ قتل کی نگرانی کی ذمہ داری شمالی افریقا کے داعشی امیر ابو المغیرہ القحطانی کو سونپی گئی۔ ایک کھلے میدان میں تمام یرغمالیوں کو لائے جانے کے بعد کہا گیا ذبحہ کیے جانے کا یہ واقعہ ویڈیو فوٹیج میں ریکارڈ کرایا جائےگا۔

ویڈیو کی تیاری کے عمل کی نگرانی امیر اطلاعات محمد تویعت، ابو عبداللہ چاڈی اور ابو معاذ التکریتی جو قحطانی کے قتل کے بعد شمالی افریقا کا والی مقرر ہوا کو سونپی گئی تھی۔

ویڈیو میں ریکارڈ کی گئی آواز طرابلس کے داعشی گورنر ابو عامر الجزراوی کی تھی جس نے التکریتی اور دیگر افراد کو ویڈیو کی تیاری کے احکامات بھی دیے۔

جنگجو نے انکشاف کیا کہ متعدد بار ایسا ہوا کہ ویڈیو کا عمل رکنا پڑا کیونکہ یرغمالی قبطیوں کو ذبح کیے جانے کے بعد ان میں سے بعض مزاحمت کی کوشش کرتے۔ مزاحمت کرنے والے کوتشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ بالآخر اسے بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ تاہم بیشتر یرغمالیوں کو آسانی کے ساتھ ذبح کردیا گیا۔ جب ذبحہ کرنے کا عمل شروع ہوا تو بعض یرغمالیوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ جلاد نہایت تیزی کے ساتھ ان کے سر کاٹ کر انہی کے جسم پر رکھتا جاتا۔

جب تمام قیدیوں کو ذبح کردیا گیا تو جلادوں نے اپنے چہروں سے نقاب ہٹا دیے جس کے بعد انہیں پہچانا گیا۔ جلادوں میں ولید الفرجانی، جعفر عزوز، ابو الیث النوفیلہ، خنزلہ التونسی، ابو اسامہ التونسی اورابو خفص التونسی تھے جب کہ اس سارے وحشیانہ عمل کی نگرانی ابو عامر الجزراوی نے کی۔ وہ روانی کے ساتھ انگریزی بھی بولتا تھا۔

اس کے بعد تمام مقتولین کی میتیں ایک گاڑی میں ڈال کر جنوبی سرت خشم الخیل اور دریا روڈ کے درمیان ایک جگہ پر لائی گئیں۔

طرابلس کے پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 21 مقتولین کی لاشیں نکالنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے سر تن سے جدا تھے اور ان سب کے ہاتھ باندھے ہوئے تھے۔ داعش کی جانب سے اس قتل عام کی ویڈیو پندرہ فروری 2015ء کو جاری کی گئی تھی۔