.

’بچوں کو دہشت گردی کی برین واشنگ‘ پر داعشی کو قید کی سزا

زمیرغمرہ صیدلی پر بچوں کو گلے کاٹنے کی ویڈیو دکھانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک عدالت نے بچوں کو دہشت گردی کی تر بیت دینے اور انہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمالیوں کے گلے کاٹے جانے کے بھیانک واقعات کے مناظر پرمبنی ویڈیوز دکھانے کی پاداش میں ایک داعشی دہشت گرد کو چھ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 38 سالہ زمیر غمرہ الصیدلی نامی داعشی شدت پسند پر الزام ہے کہ اس نے ایک پرائمری اسکول کے بچے اور چھوٹے بھائی کو کھلونا بندوقوں سے فائرنگ کرنے اور چاقو سے گلے کاٹنے کی تربیت دی اور اسلام کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کے قتل پر اکسایا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الصیدلی نے دو کم عمربچوں کو مٹھائی کے بدلے میں داعش میں شامل ہونے اور ان کی دہشت گردی کے لیے ذہن سازی کی کوشش کی تھی۔

جب ایک بچے نے داعشی سے پوچھا کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے انسان کا گلا کیسے کاٹ سکتا ہے تو غمرہ نے جواب دیا کہ ’جب آپ اللہ پر پکا یقین رکھتے ہیں تو ایسا کرنا ممکن ہے‘۔

گمرہ کو نومبر 2015ء میں ترکی کے سفرکی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر جنوری 2013ء اور ستمبر 2014ء کو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر دہشت گردی کے مواد پر مبنی ویڈیو پوسٹ کرنے اور دہشت گردانہ مواد کی تشہیر کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

برطانوی شہر ’نوٹیگھم‘ کی عدالت میں آٹھ روز تک جاری رہنے والے اس ٹرائل کے دوران ملزم کو بھی اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ ملزم نے اپنے اوپر عاید کردہ الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے بچوں کو دہشت گردی کی تربیت نہیں دی۔ تاہم بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ غمرہ گذشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا ویب سائیٹس پر داعشی جنگجوؤں کے صفحات کو بھی مانیٹر کرتا رہا ہے۔ قانونی وجوہات کی بناء پر داعشی جنگجو کا شکار بننے والے بچوں کے نام ظاہرنہیں کیے گئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ الصیدلی اپنے آبائی شہر لیسٹر میں ایک دینی مدرسہ قائم کرنا چاہتا تھا۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے ایک بچے کے والدین نےکہا کہ الصیدلی نے ان کے بچے کو وحشیانہ واقعات کے مناظر دکھا کر اسے دہشت گرد بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے دہشت گردی کی تربیت دینے کے الزام میں داعشی کو چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔