.

’گھریلو تشدد‘۔۔ مصری ٹی وی میزبان ’مضروبہ‘ کے روپ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک ٹی وی میزبان نے گھریلو تشدد جیسے بھیانک سماجی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے تشدد زدہ خاتون کا روپ دھارا اور ایسے لگا کہ اسے بری طرح مارا پیٹا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے ایک نجی ٹی وی چینل کی میزبان منال آغا کے چہرے پر تشدد کے واضح آثار تھے اور اس نے اسی حالت میں ٹی وی پروگرام شروع کردیا۔

پروگرام کے آغاز میں منال نے بتایا کہ اس کی یہ حالت گھریلو تشدد ہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ کہ اس کے شوہر نے اسے بری طرح جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی اور نفسیاتی طور پربھی زدو کوب کیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ پہلے تو اس نے چاہا تھا کہ وہ اس حالت میں پروگرام ریکارڈ نہیں کرائے گی مگر پھرسوچا کہ کیوں نا میں گھریلو تشدد کے معاملے کو اپنے ساتھ پیشے آئے واقعے سے ظاہر کروں۔ چنانچہ میں نے اسی حالت میں پروگرام شروع کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں دینے کے بجائے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو جرات کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا چاہیے تاکہ اس سماجی برائی کے خاتمے کی مہمات کوآگے بڑھایا جاسکے۔

منال نے بتایا کہ ان کی شادی محبت، رحمت اور باہمی احترام کے رشتے کے تحت انجام پائی تھی جس میں مار پٹائی اور تشدد کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی وہ اکلوتی خاتون نہیں ہیں بلکہ اس جیسی بے شماری خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔

پروگرام کے آخر میں منال آغا نے کہا کہ اس نے ایک تشدد زدہ عورت کا محض روپ دھار رکھا تھا۔ اسے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تاکہ دنیا پتا چلے کہ گھریلو تشدد کے کیا اثرات ونتائج ہوسکتے ہیں۔