.

الرّقہ سے مذاکرات کے ذریعے داعش کے انخلا کی حمایت نہیں کریں گے: اتحادی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد نے کہا ہے کہ شام کے شہر الرّقہ میں سخت گیر گروپ کے ہتھیار بند سیکڑوں جنگجوؤں کا مذاکرات کے ذریعے انخلا قبول نہیں کیا جائے گا۔

داعش مخالف اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے بدھ کے روز یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب اتحادی الرقہ میں محصور ہو کر رہ جانے والے قریباً چار ہزار شامی شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔اتحاد کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجو ان میں سے بعض شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور انھیں وہاں سے فرار ہونے سے روک رہے ہیں۔

دریائے فرات کے کنارے واقع الرقہ شہر میں گذشتہ چار ماہ کے دوران میں فضائی بمباری اور لڑائی کے نتیجے میں بڑی تباہی ہوئی ہے اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ وہاں جون کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز امریکا کی حمایت سے اس شہر میں داعش کے جنگجو ؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت الرقہ میں آٹھ ہزار کے لگ بھگ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔اس نے تنازع کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

کرنل ڈیلن کا کہنا ہے کہ الرقہ میں لڑائی اب آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور عرب اور کرد حکام پر مشتمل شہر کی انتظامیہ شہریوں کے محفوظ طریقے سے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کررہی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کونسل کس کے ساتھ شہریوں کے انخلا کے مسئلے بات چیت کررہی ہے۔

انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سوموار کے بعد سے الرقہ سے سات سو شہریوں کو نکال لیا گیا ہے اور باقیوں کو بھی وہاں سے نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔کرنل ڈیلن کا کہنا تھا کہ شہر میں باقی رہ جانے والے جنگجوؤں کے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کے بارے میں بھی گفتگو کی جارہی ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ اگر داعش کے جنگجوؤں کے مذاکرات کے ذریعے انخلا پر کوئی اتفاق رائے ہوتا ہے تو ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ اس سے متفق ہوں گے۔ان کے بہ قول اس وقت تین سے چار سو داعش کے جنگجو چار مربع کلومیٹر کے علاقے میں موجود ہیں ۔وہ شہر کے اسٹیڈیم اور ایک اسپتال پر ابھی تک قابض ہیں۔اسٹیڈیم کو وہ اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اسپتال میں انھوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کررکھا ہے۔

شامی جمہوری فورسز نے الرقہ پر قبضے کے لیے جون میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی تھی۔ابتدا میں اور شہر کے مضافات میں تو انھوں نے بڑی تیزی سے پیش قدمی کی تھی لیکن بعد میں انھیں داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس دوران میں داعش کے دو تین بڑے کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور ایک کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دریں اثناء امریکا کی قیادت میں اتحادی طیاروں نے الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کم کردیے ہیں تاکہ وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکلنے کا موقع دیا جاسکے اور داعش کے ہتھیار ڈالنے پر بھی بات چیت کی جاسکے۔اتحاد نے منگل کے روز الرقہ کے نزدیک پانچ فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔