.

حماس اور فتح میں سمجھوتا ، غزہ کا کنٹرول یکم دسمبر تک قومی حکومت کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے متحارب سیاسی دھڑوں حماس اور فتح کے درمیان قاہرہ میں سیاسی مصالحت کا سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس کے تحت غزہ کی پٹی کا تمام انتظامی کنٹرول یکم دسمبر تک فلسطین کی قومی حکومت کے حوالے کردیا جائے گا۔

مصر کی سرکاری اطلاعاتی سروس کے مطابق قاہرہ میں جمعرات کو اس سمجھوتے پر حماس کے نئے نائب سربراہ صالح العاروری اور فتح کے مذاکراتی وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے دست خط کیے ہیں۔قبل ازیں حماس کے تحت فلسطینی اطلاعاتی مرکز نے بھی اس سمجھوتے کی اطلاع دی تھی۔

حماس اور فتح نے اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے کے لیے مصر کی ثالثی میں منگل کے روز قاہرہ میں مصالحتی بات چیت شروع کی تھی اور آج ان کے درمیان سیاسی وانتظامی اختلافات کے خاتمے کے لیے یہ تاریخی سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان گذشتہ ایک عشرے سے جاری شدید اختلافات کے خاتمے کے لیے گذشتہ ہفتے کے دوران میں اہم پیش رفت ہوئی تھی ۔ فلسطین کی قومی حکومت کے وزیر اعظم رامی حمداللہ اور ان کے وزراء نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے وہاں باضابطہ طور پر سرکاری محکموں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

فلسطینی وزیراعظم کا 2015ء کے بعد غزہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ان کے اس دورے سے پہلے حماس نے گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت سے دستبردار ہونے اور علاقے کا انتظامی کنٹرول قومی اتحاد کی حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ مذاکرات میں شریک فتح کے ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ سمجھوتے کے تحت قومی حکومت کا سول اور سکیورٹی کے تمام شعبوں میں کنٹرول ہوجائے گا۔

حماس اور فتح کے درمیان مصالحتی سمجھوتے کے تحت غزہ کی پٹی میں قومی اتحاد کی حکومت کی مکمل عمل داری قائم ہوجائے گی اور فلسطینی اتھارٹی وہاں تین ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کرے گی۔وہ حماس کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کی جگہ لیں گے۔