.

حماس سے مصالحت، فلسطینی صدر محمود عباس جلد غزہ کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس آیندہ ایک ماہ کے دوران میں کسی وقت غزہ جائیں گے۔گذشتہ ایک عشرے میں ان کا غزہ کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی صدر کی جماعت فتح کے ایک عہدہ دار زکریا آل آغا نے جمعرات کے روز ان کے اس دورے کی اطلاع دی ہے۔قبل ازیں فتح اور اس کی حریف حماس نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات کے بعد اپنے گذشتہ ایک عشرے سے جاری اختلافات کے خاتمے کی نوید دی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

زکریا آغا نے بتایا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت حال ہی میں غزہ کی پٹی کے خلاف کیے گئے تمام اقدامات واپس لے لیے جائیں گے۔ان میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ میں بجلی مہیا کرنے کے لیے رقم میں نمایاں کمی بھی شامل ہے۔اس کی وجہ سے غزہ کے مکینوں کو دن میں صرف چند گھنٹے کے لیے ہی بجلی دستیاب ہوتی ہے۔

حماس اور فتح نے اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے کے لیے مصر کی ثالثی میں منگل کے روز قاہرہ میں مصالحتی بات چیت شروع کی تھی اور آج ان کے درمیان سیاسی وانتظامی اختلافات کے خاتمے کے لیے سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

ان کے درمیان گذشتہ ایک عشرے سے جاری شدید اختلافات کے خاتمے کے لیے گذشتہ ہفتے کے دوران میں اہم پیش رفت ہوئی تھی ۔ فلسطین کی قومی حکومت کے وزیر اعظم رامی حمداللہ اور ان کے وزراء نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے وہاں باضابطہ طور پر سرکاری محکموں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

فلسطینی وزیراعظم کا 2015ء کے بعد غزہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔اس سے چند روز پہلے ہی حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت سے دستبردار ہونے اور علاقے کا انتظامی کنٹرول قومی اتحاد کی حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

واضح رہے کہ حماس اور مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی فتح کے درمیان 2007ء سے اختلافات چلے آرہے تھے اور دونوں نے غزہ کی پٹی اور غرب ِاردن میں اپنی الگ الگ حکومت بنا رکھی تھی۔ ماضی میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد مرتبہ مصالحت کے لیے کوششیں کی گئی تھیں لیکن یہ ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں۔ان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہوچکا ہے ۔