.

ایران نے خطے کے عدم استحکام کے لیے حوثیوں کو کٹھ پتلی بنایا : یمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر ایران پر اس الزام کو دُہرایا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام کے لیے حوثیوں کو کٹھ پُتلی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران باغیوں کے ساتھ اتحاد کر کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ باغی ملیشیاؤں کو اسلحے کی فراہمی کے پیچھے تہران کا ہاتھ ہے جس نے باغیوں کے لیے لوجسٹک اور عسکری سپورٹ کے علاوہ پاسداران انقلاب کے ماہرین کے ذریعے بھی مدد کی۔ ایران نے انہیں جدید میزائلوں اور دیگر ٹکنالوجی سے لیس کیا جس کے سبب جنگ طویل ہو گئی۔ ان چیزوں میں سمندری بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز کشتیاں شامل ہیں جنہوں نے خطے کے امن و استحکام اور بحر احمر میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔

اس سے قبل یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے رواں ماہ کے دوران باور کرایا تھا کہ ایران کی جانب سے شامی اور یمنی بحرانوں کو مربوط کرنے کی کوشش کا مقصد یمن میں قانونی اور آئینی حکومت کے علاوہ سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کو بلیک میل کرنا اور شام میں تہران کے رسوخ کو مضبوط بنانا ہے۔

المخلافی نے عربی رونامے "الشرق الاوسط" سے گفتگو میں کہا کہ یہ کوششیں ہر گز کامیاب نہیں ہوں گی کیوں کہ عالمی برادری شام اور لیبیا کے معاملات میں منقسم ہونے کے باوجود یمن کے حوالے سے یکساں موقف رکھتی ہے۔