.

بغداد حکومت کا کرد فورسز کو کرکوک سے انخلا کے لیے علی الصباح تک الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی مرکزی حکومت نے کرد فورسز کو تیل کی دولت سے مالا مال صوبے کرکوک سے انخلا کے لیے اتوار کی علی الصباح تک کا الٹی میٹم دیا ہے۔

ایک کرد عہدہ دار نے ہفتے کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ البیش المرکہ کو 6 جون 2014ء سے پہلے والی پوزیشنوں پر واپس جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن آج رات ختم ہوجائے گی۔

ان سے جب اس کا وقت پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ اتوار کو علی الصباح دو بجے تک کا وقت ہے اور البیش المرکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سے پہلے پہلے پورے صوبے کا سکیورٹی کنٹرول عراقی فورسز کے حوالے کردیں۔

دریں اثناء عرا ق کے صدر فواد معصوم کردستان کے شہر سلیمانیہ میں کرد لیڈروں سے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔بغداد حکومت اور خودمختار کردستان کی قیادت کے درمیان گذشتہ ماہ ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ کردستان میں 25 ستمبر کو منعقدہ اس ریفرینڈم میں قریباً 93 فی صد کرد ووٹروں نے عراق سے علاحدگی اور آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

عراق کے شمالی صوبے کرکوک میں مختلف نسلوں کے لوگوں آباد ہیں لیکن اس صوبے میں تاریخی طور پر کرد آبادی کی کثرت رہی ہے۔یہاں عرب اور ترکمن بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ عراقی فوجیوں نے جمعہ کو کرکوک کے جنوب میں واقع بعض علاقوں کا باضابطہ طور پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ان میں شیعہ اکثریتی قصبہ طوز خرماتو بھی شامل ہے۔

کرد فورسز کا اس وقت کرکوک شہر اور صوبے میں تیل کے تین بڑے کنووں پر کنٹرول ہے۔ان آئیل فیلڈز سے نکلنے والے تیل کی آمدن کردستان کی علاقائی حکومت کے مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہے۔یاد رہے کہ جون 2014ء میں داعش کے جنگجوؤں کی عراق کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں کی جانب یلغار کے وقت کرکوک سے بھی عراقی فوج بھاگ گئی تھی اور اس کے بعد کرد فورسز نے اس صوبے کا سکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک عراقی حکومت اور کرد فورسز کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کام کررہا ہے۔انھوں نے فریقین پر زوردیا تھا کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جاری جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔اس مرحلے پر ان کا ایک دوسرے پر بندوقیں تاننا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔