.

24 گھنٹوں میں داعش کے 100 جنگجووں نے ہتھیار ڈال دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کا کہنا ہےکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شام کے الرقہ شہر میں داعش کے 100 جنگجوؤں نے خود کو حکام کے حوالے کیا ہے۔

اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے درجنوں جنگ جوؤں کے ہتھیار پھینکنے کے باوجود آنے والے دنوں میں الرقہ میں گھمسان کی لڑائی کی توقع ہے۔ ترجمان نے کہا کہ الرقہ میں داعش کی مکمل شکست کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ کے مطابق الرقہ میں موجود داعش کے شامی جنگجوؤں کو غیرملکی جنگجوؤں سے الگ کیا جا رہا ہے۔

آبزرویٹری کے ترجمان رامی عبدالرحمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ الرقہ میں داعش کے تمام شامی جنگجوؤں کو گذشتہ پانچ روز میں الگ کیا گیا ہے۔ ان کی تعداد دو سو بتائی جاتی ہے۔ وہ اپنے خاندانوں کے ہمراہ نامعلوم مقام پر منتقل کیے گئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز اور داعش تنظیم کے درمیان غیرملکی جنگجوؤں کو ایک ہی بار الرقہ سے نکالنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ان جنگجوؤں کی تعداد ڈیڑھ سو تک ہوسکتی ہے۔ تاہم ایک دوسری خبر میں بتایا گیاہے کہ الرقہ میں موجود داعش کے غیرملکی جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ انہیں ہتھیار ڈالنے کی صورت میں گرفتار کیا جائے گا۔

آب زرویٹری کے مطابق الرقہ میں کئی بسیں داخل ہوئی ہیں جن پر داعش کے خاندان کے افراد کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔