.

بشار حکومت کا اِدلِب سے ترکی کے فوری انخلاء کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے اِدلب صوبے میں ترکی کی فوج کے داخل ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ترکی اپنے اس اقدام کو آستانہ میں روس اور ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا موجب قرار دیتا ہے۔

شامی حکومت کی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی اراضی میں حالیہ جارحیت ختم کی جائے اور ترکی کی فوج کا فوری طور پر غیر مشروط انخلاء عمل میں لایا جائے۔ شامی حکومت نے زور دیا کہ ترکی کی مداخلت کا آستانہ معاہدے دے کوئی تعلق نہیں۔

ادھر ترکی کی فوج نے زمینی طور پر ادلب کے شمال میں عبسال گاؤں اور حلب کے مغرب میں جبلِ سیموین تک اپنی تعیناتی کا دائرہ پھیلا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کی فوجی جبلِ برکات کے علاقے میں بھی پھیل گئے ہیں جو کردوں کے زیر کنٹرول علاقے عفرین کے قریب واقع ہے۔

اپوزیشن ذرائع کے مطابق ترکی کی فوج ان علاقوں میں موجود رہنے کے لیے کوشاں ہے جو کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم کے ٹھکانوں کے مقابل واقع ہیں۔ کرد تنظیم اس پیش رفت سے خبردار کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ عفرین کے علاقے کے محاصرے کی کوشش ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں ایک نئی جنگ چِھڑ سکتی ہے۔

اپوزیشن ذرائع اس بات کا حوالہ دے چکے ہیں کہ ترکی کے فوجیوں کی تعیناتی سے کُردوں کا سمندری گزرگاہ تک پہنچنے اور ادلب میں داخل ہونے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔