.

حوثیوں نے اپنی حلیف جماعت کا عہدیدار جیل میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں کی ایک نام نہاد عدالت نے باغیوں کی اہم ترین حلیف جماعت پیپلز کانگریس کے ایک سرکردہ عہدیدار کو جیل میں ڈال دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صنعاء میں پبلک پراپرٹی کے کیسز نمٹانے والی عدالت نے سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کےایک قریبی ساتھی اور جماعت کے سرکردہ عہدیدار امین جمعان کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا ہے۔

امین جمعان دارالؓحکومت صنعاء میں پیپلز کانگریس کی درجہ اول کا ایگزیکٹو عہدیداراور مقامی سیکرٹریٹ کونسل کا رکن ہے۔

حوثی باغیوں کی طرف سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ امین جمعان کو ایک سال قبل قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ حال ہی میں باغیوں نے ان کی سزا پرعمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔ جمعان پر حوثیوں کی مخالف سرگرمیوں سمیت متعدد دیگرکیسز میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

پیپلز کونسل کے صنعاء کے مقامی سیکرٹری جنرل کے مقرب ذرائع نے باغیوں کے اس فیصلے کو انتقامی کارراوئی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعان کو سنائی گئی سزا ایک بار کالعدم قرار دی جا چکی ہے

ذرائع کے مطابق حوثیوں کی طرف سے علی صالح کے ساتھی پرعاید کردہ بدعنوانی کے الزامات میں کوئی صداق نہیں، ان پر بعض ضوابط کی خلاف ورزیوں کا الزام تھا جس کی وہ عدالت میں وضاحت کرچکے ہیں مگر عدالت ان کی وضاحت کو نظرانداز کرکے انہیں ایک سال قید کی سزا کا حکم سنا چکی ہے۔

عدالتی فیصلے میں امین جمعان اور ڈائریکٹر جنرل تعلیم محمد الفضلی پر 12 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی رقم دارالحکومت کے اسکولوں کے لئے 2000 کمپیوٹروں کی خریداری کے ٹھیکے میں خورد برد کا الزام عاید کیا گیا ہے۔