.

قطر کی پراپرٹی مارکیٹ کو کئی برسوں کی سب سے بڑی مندی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کے روز جاری سرکاری معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے طالب چار ممالک کی جانب سے دوحہ کے بائیکاٹ کے بعد پراپرٹی کی منڈی میں شدید مندی کے بیچ قطر میں ستمبر کے مہینے میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں کمی آئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ستمبر 2016 کے مقابلے میں ستمبر 2017 میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.5% کمی آئی۔ اگست 2017 میں کمی کی شرح 0.4% رہی جو 2015 کے اوائل کے بعد سے پہلی بار کم ہوئی تھی۔

عربی روزنامے "الاقتصادیہ" کے مطابق ہاؤسنگ کے نرخوں میں گزشتہ برس کی نسبت اس ستمبر میں 4.7% کی کمی ہوئی جب کہ اگست کے مقابلے میں کمی کی شرح 0.7% رہی۔

قطر کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اگست 2016 کے مقابلے میں رواں برس اگست میں غذائی اشیاء اور مشروبات کی قیمتوں میں 2.8 % کا اضافہ ہوا۔

جاری کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ چار ممالک کا بائیکاٹ اب بھی پراپرٹی مارکیٹ کو شدید طور پر متاثر کر رہا ہے۔ اس چیز نے متعدد سرمایہ کاروں کو اپنی پراپرٹی فروخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

رواں برس پانچ جون کو سعودی عرب ، بحرین ، امارات اور مصر نے دوحہ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان زمینی سرحد بند کر دی گئی جس کے ذریعے جلد خراب ہو جانے والی اشیاء کا ایک بڑا حصہ گزرتا تھا۔ اس کے علاوہ سمندری کارگو کے راستے بھی معطّل ہو گئے۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال جولائی میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 4.5% کا اضافہ ہوا جو 2014 کے بعد سے سب سے زیادہ بڑھوتی ہے۔ قطر کی کارگو کمپنیوں نے دبئی کو بطور مرکز استعمال میں لانے میں ناکامی کے بعد سلطنت عمان ، کویت اور برصغیر کے راستے کارگو خدمات حاصل کیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ قطری معیشت کے لڑکھڑانے کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطاق دوحہ عالمی مالیاتی منڈی سے نو ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے تا کہ ریاست کے خزانے کی آمدنی کا خسارہ پورا کیا جا سکے۔ بلومبرگ ایجنسی کے مطابق ملکی خزانہ گروپ چار کے بائیکاٹ کے اقدامات کے نتیجے میں شدید طور پر متاثر ہوا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ قطر ملکی خزانے کا نقصان پورا کرنے کے واسطے نو ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بونڈز فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومتی ذمے داران فروخت کا وقت متعین کرنے کے لیے بینکوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا ہدف ایشیا ، امریکا اور یورپ میں موجود سرمایہ کار ہیں۔

علاوہ ازیں قطر کے مرکزی بینک نے رواں سال اگست میں ذر مبادلہ کے مجموعی ذخائر میں اپنے غیر ملکی اثاثوں میں سے 19 ارب ڈالر کے مساوی اثاثوں کا اضافہ کیا جن کا اس سے پہلے انکشاف نہیں ہوا تھا۔ بلومبرگ ایجنسی کے مطابق اس اقدام کا مقصد مالی خسارے کو پورا کرنا ہے۔