.

ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک اور جنرل شام میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب کا ایک اور جنرل شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے اسد رجیم پر قربان ہوگیا ہے۔

ایرانی ٹی وی چینل’IRIB‘ پر نشر کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل عبداللہ خسروی ہفتے کو شام میں لڑائی کے دوران مارا گیا تاہم اس کے قتل کی جگہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ البتہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول جنرل خسروی عراق ۔ ایران جنگ کے دوران خلیج جنگ میں بھی شریک رہا ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر اسے شام و عراق میں مزارات اہل بیت کے دفاع کے لیے بھیجا گیا تھا۔

جنرل خسروی پاسداران انقلاب کے ’فاتحین‘ بریگیڈ کو کمانڈ کرنے کے ساتھ شام میں لڑنے والی بسیج ملیشیا کے جنگجوؤں کی ٹریننگ کے بھی نگران رہ چکے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان جنگجوؤں پر مشتمل ’فاطمیون‘ بریگیڈ کا ایک جنگجو بھی حال ہی میں مارا گیا جسے جنرل عبداللہ خسروی کے ساتھ تہران کے قریبی شہر اراک میں دفن کیا گیا۔

امریکا کی جانب سے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کیے جانے کے باوجود شام، عراق اور یمن میں ایران کی فوجی مداخلت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عراق اور شام میں بڑی تعداد میں ایرانی فوجی اور ان گنت ملیشیاؤں کے جنگجو پھیلے ہوئے ہیں۔ عراق اور شام میں ایران مقامات مقدسہ کےدفاع کی آڑمیں تخریبی اور توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔