.

دمشق کے مشرق میں شامی دفاعی نظام پر اسرائیلی فضائیہ کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شامی دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقع ایک علاقے میں شامی فضائی دفاعی نظام کی بیٹریز کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی پیر کی صبح لبنانی فضائی حدود میں ایک اسرائیلی طیارے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایک میزائل داغے جانے کے بعد عمل میں آئی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان جانتھن کونریکوس نے صحافیوں کو بتایا کہ " ہم طیارے کے خلاف حملے یا شام کی جانب سے ہونے والے کسی بھی حملے کا ذمے دار شامی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی طیارہ لبنانی فضاؤں میں اپنی "روٹین کے سروے مشن" پر تھا۔

ادھر بیت المقدس میں "العربیہ" کے نمائندے نے واضح کیا کہ آج نشانہ بنائی گئی بیٹریز وہ ہی ہیں جن کے ذریعے رواں سال مارچ میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب دو میزائل داغے گئے تھے اور ان میزائلوں کو غور اردن کے علاقے میں فضا میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ نمائندے کے مطابق میزائل بیٹریز کو دمشق سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔

اسی سلسلے میں اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ ختم ہو چکا ہے اور کسی قسم کی عسکری جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا نشانہ بنایا جانا یہ سُرخ لکیر ہے۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ماسکو کے ساتھ عسکری رابطہ کاری کے سلسلے میں روس کو آج دمشق کے نزدیک کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات اور اس کی وجوہات سے آگاہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 2001 میں شام کا تنازع شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کئی مرتبہ شام میں شامی اہداف یا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنا چکا ہے اور شام اور اسرائیل ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔ اسرائیل نے جون 1967 سے شام میں گولان کے پہاڑی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کا رقبہ تقریبا 1200 مربع کلومیٹر ہے۔ اسرائیل نے 1981 میں اس علاقے کو اپنی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ عالمی برادری نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ اس وقت بھی تقریبا 510 مربع کلومیٹر کا علاقہ شامی اقتدار کے زیر انتظام ہے۔