.

صنعاء : خفیہ جیلوں سمیت باغیوں کے 100 سے زیادہ قید خانے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی میڈیا سینٹر کے مانیٹرنگ یونٹ نے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے زیر انتظام جیلوں کی تعداد کا انکشاف کیا ہے۔ یونٹ کے مطابق ان قید خانوں کی تعداد 107 ہو گئی ہے جو دارالحکومت کی نو گورنریوں میں تقسیم ہیں۔

یونٹ کے مطابق ان جیلوں میں باغی ملیشیاؤں کی جانب سے بد ترین نوعیت کے تشدد اور اہانت آمیز کارروائیوں پر عمل کیا جاتا ہے۔

خفیہ قید خانے

حوثی ملیشیا اور معزول صالح کی فورسز نے 21 ستمبر 2014 کو دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد خفیہ قید خانے قائم کیے اور سرکاری جیلوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس میں اپنے ہزاروں مخالفین کو قید کر دیا۔

دارالحکومت صنعاء کے سکریٹریٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جن قید خانوں کا پتہ لگایا گیا ہے ان میں 78 سرکاری جیلیں ، 25 خفیہ قید خانے اور 4 خصوصی جیلیں ہیں۔

سرکاری جیلوں میں پولیس ، انٹیلی جنس اور بعض عدالتوں کے زیر انتظام حراستی مراکز شامل ہیں۔

دارالحکومت کے مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق صنعاء میں تین سالوں کے دوران حوثی ملیشیا کے ہاتھوں گرفتار اور اغوا کیے جانے والے افراد کی تعداد 3200 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے خود پر کسی بھی قسم کی تنقید کیے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ خواہ یہ نکتہ چینی سرکاری اداروں میں ہو ، شہریوں ، صحافت یا سوشل میڈیا کے ذریعے کی گئی ہو۔ اس حوالے سے معاشرے کے تمام طبقات کو نشانہ بنایا گیا جن میں صحافی ، سرکاری ملازمین ، کارکنان ، سیاست داں ، طلبہ ، کاروباری حضرات ، مساجد کے خطیب اور مبلغین ، اہلِ دانش اور اساتذہ شامل ہیں۔

1615 کارکنان

مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق گرفتار شدگان میں 1615 کارکنان بھی ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا کے بلاگرز ہیں یا پھر انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ ان میں اکثریت فروری 2011 کے انقلاب میں شامل کارکنان کی ہے جس نے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گرفتار شدگان میں ان کی تعداد 1017 ہے۔ دوسرے نمبر پر مزدور طبقہ ہے جن کی تعداد 705 ہے جب کہ سیاست داں 482 گرفتاریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

اسی سیاق میں یمنی میڈیا سینٹر کے یونٹ نے گزشتہ ماہ ستمبر کے دوران صنعاء میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق 119 جرائم اور پامالیوں کا پتہ چلایا۔ ان جرائم میں قتل ، اغوا ، گھروں پر دھاے ، لوگوں سے لوٹ مار ، بچوں کی بھرتی اور عسکری چوکیوں کا قیام شامل ہے۔