.

سلیمانی کے بعد ایرانی چیف آف اسٹاف بھی حلب میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا نے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری کی تصاویر نشر کی ہیں جن میں وہ ایک عسکری وفد کے ساتھ شام کے شمالی صوبے حلب اور دیگر علاقوں میں گھومتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس گشت کا مقصد شام کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی دیگر عسکری ٹکڑیوں اور افغان ، عراقی اور لبنانی ملیشیاؤں سے ملاقات کرنا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق باقری نے منگل کے روز حلب کے نواحی دیہی علاقے میں پاسداران انقلاب کی فورسز اور ملیشیاؤں سے خطاب کرتے ہوئے شامی اپوزیشن پر قابو پانے اور مسلح گروپوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی۔

میجر جنرل باقری کا یہ شام کا پہلا دورہ ہے جہاں جمعرات کے روز بشار حکومت نے ان کا استقبال کیا۔ باقری نے متعدد علاقوں کا دورہ کیا جہاں ان کے ملک کی فورسز کے زیر انتظام عناصر موجود ہیں۔ ان میں پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج شامل ہے۔

باقری کے دورے سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب کی قُدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی بھی حلب صوبے میں نمودار ہو چکا ہے اور اس کی صوبے کے مختلف علاقوں میں تصاویر بھی نشر ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ شامی حکومت کو درپیش اکثر معرکوں میں بالخصوص شامی اپوزیشن کے گڑھ حلب اور اس کے علاوہ حمص ، دمشق اور ریف دمشق کے صوبوں میں ایرانی فورسز کی مستقل معاونت حاصل ہے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بشار حکومت کو سقوط سے بچانے کے لیے 2012 میں عسکری مداخلت کے بعد سے اب تک ایران اپنے 3000 سے زیادہ جنگجو گنوا چکا ہے۔

سال 2016 تک شام میں پاسداران انقلاب اور اس کی ملیشیاؤں کے ارکان کی تعداد 70 ہزار جنگجو تک پہنچ چکی تھی۔ پاسدران انقلاب شام میں معرکوں کی قیادت کر رہی ہے اور شیعہ ملیشیاؤں کو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے۔ تہران حکومت شام کی جنگ پر ہتھیاروں ، عسکری ساز و سامان اور شامی فوج اور ملیشیاؤں پر اخراجات کی مد میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ پھونک چکی ہے۔