.

سیستانی نے کرکوک میں کُردوں کے تحفّط کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں معروف شیعہ مذہبی شخصیت علی سیستانی نے جمعے کے روز عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرکوک میں کُردوں کو تحفظ فراہم کریں۔

سیستانی کا یہ مطالبہ جمعے کے خطبے کے دوران سامنے آیا جو سیستانی کے ایک نمائندے نے اُن کی طرف سے دیا۔

یہ مطالبہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کرکوک اور دیگر علاقوں میں پیر کے روز عراقی فورسز کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کردوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔

اس سے قبل سیستانی ایک اعلان میں کرستان ریجن کی عراق سے علاحدگی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیستانی نے کرد رہ نماؤں کو دعوت دی تھی کہ وہ آزادی کی کوشش میں آئینی راستہ اختیار کریں۔

ادھر عراقی کردستان کی حکومت کے ذمے داران نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ پیر کے روز عراقی فورسز کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے شورش کے اندیشوں کے سبب تقریبا ایک لاکھ کرد کرکوک سے فرار ہو چکے ہیں۔

اربیل کے گورنر نوزاد ہادی نے صحافیوں کو بتایا کہ تقریبا 18 ہزار خاندان دو شہروں اربیل اور سلیمانیہ منتقل ہو چکے ہیں۔

گورنر کے مطابق ان خاندانوں نے حالیہ واقعات اور کردوں کے ساتھ الحشد الشعبی ملیشیا کی کرستانیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران گھروں پر چھاپوں اور انہیں نذرِ آتش کرنے کے بھی واقعات پیش آئے۔