.

نئی امریکی پابندیاں ایران اور حزب اللہ کی راہ دیکھ رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن رہ نماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایوان میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام اور تہران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے رائے شماری ہو گی۔

ایوان میں پارلیمانی لیڈر کیون میکارتھی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ اِڈ روئس نے جمعے کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ "کانگریس کی ذمّے داری ہے کہ ایران کے غیر محتاط اور لا پروا برتاؤ کو روکنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی تیار کرنے کے واسطے ایگزیکٹو اتھارٹی کے ساتھ کام کرے"۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ "اس مقصد کے لیے فوری اقدام کے طور پر آئںدہ ہفتے ہم ایوان میں ایک قانونی بل پر رائے شماری کریں گے جس سے حزب اللہ اور ایرانی میزائل پروگرام پر پابندیوں میں اضافہ ہو گا"۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اکتوبر کو ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی پاسداری کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ آخرکار وہ معاہدہ منسوخ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد 16 اکتوبر کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کا "واقعی امکان" ہے۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن کے دفتر کے اعلان کے مطابق مذکورہ وزیر آئندہ ہفتے 25 سے 30 اکتوبر تک مشرق وسطی کا رخ کریں گے جہاں وہ ایران اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔ دورے میں امریکی وزیر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر اور اسرائیل جائیں گے۔

فرانس کا مطالبہ

دوسری جانب فرانس نے اپنے طور پر ایران کے "میزائل" پروگرام کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فرانس کی وزیر خارجہ فلورنس بارلے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس بات کا خواہش مند ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی جانب سے خطّے کو غیر مستحکم کرنے والے برتاؤ سے نمٹنے کے لیے متحرک ہوا جائے۔

فلورنس نے واشنگٹن میں ایک تحقیقی مرکز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں جامع انداز میں مشترکہ عمل کے منصوبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس معاملے کو مکمل سنجیدگی سے لینا چاہیے"۔