.

ایران کی طرح حوثی بھی ’بہائیوں‘ پر مظالم ڈھانے لگے!

یمن میں بہائی فرقے کے 65 افراد یرغمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں بہائی فرقے کے پیروکاروں کے خلاف پولیس اور ایرانی فورسز کے وحشیانہ کریک ڈاؤن، پکڑ دھکڑ اور مظالم کی طرح یمن کے ایران نواز حوثی باغی بھی تہران کی چال چلنے لگے ہیں۔ یمن کی بہائی برادری حوثیوں کے ہاتھوں بدترین مظالم کا سامنا کررہی ہے۔

گذشتہ روز حوثی ملیشیا نے بہائی فرقے کے ایک مرکزی رہ نما ولید عیاش کے گھر پر دھاوا بولا اور ان کے بھائی اکرم عیاش کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔ ولید عیاش اور اکرم کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے فرقے کے گرفتار اور لاپتا کیے گئے افراد کی تلاش کے لیے کام کررہے ہیں۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے بہائی برادری کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی بھی صریح خلاف ورزی ہے جس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ گرفتار کیے گئے تمام بہائیوں اور دیگر افراد کو فوری طور پر رہا کردیں۔

صنعاء کے مقامی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ چار بلیٹ پروف گاڑیوں پر سوار حوثی ملیشیا کے عناصر زیرحراست بہائی رہ نما ولید عیاش کےگھر میں گیٹ توڑ کر داخل ہوئے۔ گھر میں داخل ہونے والے باغیوں نے ولید عیاش کے بیٹے مازن کے بارے میں پوچھا تاہم مازن کی گھر پر عدم موجودگی کے باعث اسے گرفتار نہیں کرسکے البتہ ان کے بھائی اکرم عیاش کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے گھر میں گھس کر نہ صرف قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی بلکہ بغیر کسی وجہ کے اندھا دھند فائرنگ بھی کرتے رہے۔

خیال رہے کہ ولید عیاش خود گذشتہ پانچ ماہ سے حوثی باغیوں کی قید میں ہیں۔

ادھر یمن میں بہائی برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے حوثی باغیوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغی بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں اوران پر تشدد کرکے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں بہائی برادری کے لوگوں پر مظالم کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہوسکتا ہے، کیونکہ ایران کھلے عام حوثی باغیوں کی مدد کررہا ہے، جب کہ خود ایران بھی بہائی فرقے کے پیروکاروں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگست کے بعد حوثی باغیوں نے صنعاء اور دوسرے شہروں سے بہائی فرقے کے 65 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ یمن میں بہائیوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔