.

سعودی عرب : سرمایہ کاری فنڈز کے ایونٹ کا سیشن روبوٹ کے ہاتھ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منگل کے روز”Future Investment Initiative” ایونٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ایونٹ کی سرگرمیاں 24 سے 26 اکتوبر تک جاری رہیں گی اور اس میں دنیا بھر کے ضخیم سرمایہ کاری فنڈز سے متعلق 100 سے زیادہ سربراہان اور پالیسی ساز شرکت کریں گے۔ ایونٹ کی خاص اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کے ایک سیشن کے انتظامی امور کو ایک روبوٹ سنبھالے گا۔ یہ پیش رفت اس بات کی دلیل ہے کہ ٹکنالوجی کے انقلاب نے بالآخر مصنوعی ذہانت کے ذریعے روبوٹ کو انسان پر برتری دلا دی۔

اس میں حیرت کی بات نہیں ہے کہ "صوفیا" نامی خاتون روبوٹ مذکورہ ایونٹ کی سرگرمیوں میں مرکزی ترجمان ہو گا۔ ایونٹ میں متعدد موضوعات زیر بحث آئیں گے جن میں وہ صنعتیں بھی شامل ہیں جن مصنوعی ذہانت کے راستے بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اس نوعیت کے روبوٹ کمپنیوں اور اداروں کے سامنے اس اختیار کا دروازہ کھول سکتے ہیں کہ وہ انسانی افرادی قوت سے بے نیاز ہو جائیں۔

اس بات کو باور کراتے ہوئے جاپانی ارب پتیMasayoshi نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ تیس برس بعد سوچنے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھنے والے روبوٹوں کی تعداد انسانوں کی تعداد کے برابر ہو گی۔

یہ ویژن اس بات پر مرکوز ہے کہ مستقبل میں دنیا بھر میں کمپنیوں کا زیادہ انحصار آلات اور روبوٹس پر ہو گا۔

سعودی ویژن 2030 کے سلسلے میں سعودی جنرل انویسٹمنٹ فنڈ نے جاپانی گروپ "سافٹ بینک" کے تعاون سے "سافٹ بینک ویژن" فنڈ قائم کیا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد عالمی سطح پر ٹکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔ یہ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ اس سیکٹر میں سب سے بڑا سرماریہ کاری فنڈ بن جائے گا۔ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ حالیہ حجم سے دو گنے حجم کا سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

سافٹ بینک ویژن فنڈ کی جانب سے دنیا بھر کی مختلف معروف ٹکنالوجی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کمپنیوں میںMapbox ،Brain Corp ، Nauto ،Plenty اور Slack شامل ہیں۔

سعودی ویژن 2030 کے ضمن میں مملکت کی جانب سے اپنائی جانے والی روش پر متحدہ عرب امارات نے بھی چلنا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے عمر بن سلطان کو مصنوعی ذہانت کا پہلا وزیر مملکت مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔

ان تیز رفتار اقدامات کی روشنی میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کام کے مقام پر ملازمین کی جگہ مشینوں کے آنے میں کتنا عرصہ رہ گیا ہے؟ ایسا نظر آ رہا ہے کہ اس حوالے سے ٹرک ڈرائیورز اور ریٹیلرز سب سے پہلا ہدف ہوں گے!

برطانیہ کی آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ہیومن فیوچر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کیے جانے والے تحقیقی مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں اور ریٹیلروں کو آئندہ دو دہائیوں کے دوران اپنے کردار پر اچھی طرح سوچنا ہو گا۔ اس لیے کہ توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات سال 2027 تک ٹرک چلانے اور 2031 تک ریٹیل اسٹورز پر اشیاء کی فروخت کی ذمے داری انجام دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔