.

شامی قصبے القریتین میں داعش کے ہاتھوں قتل افراد کی تعداد 128 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے پیر کے روز بتایا ہے کہ حمص کے قصبے القریتین میں داعش تنظیم کی جانب سے قتل عام میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد کم از کم 128 ہو گئی ہے۔

داعش نے ہفتے کے روز بنا لڑائی القریتین قصبے سے اپنے انخلاء اور شامی حکومت کی فورسز کو اس کا کنٹرول حوالے کرنے سے قبل 20 روز تک قصبے پر اپنے قبضے کے دوران ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

کل اتوار کے روز مقامی ذرائع نے داعش تنظیم کے انخلاء کے بعد القریتین قصبے سے 100 سے زیادہ سر بریدہ لاشوں کے ملنے کا انکشاف کیا تھا۔

المرصد گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق داعش تنظیم نے ان تمام افراد پر شامی حکومت کی فورسز کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر موت کی نیند سلا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قصبے کے لوگوں کو گھروں ، سڑکوں اور دیگر علاقوں میں لاشیں پڑی ہوئی ملیں۔ رامی کا کہنا ہے کہ ان افراد کو چاقو کے ذریعے یا فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

المرصد کے ڈائریکٹر کے مطابق قصبے کے بعض رہائشیوں نے لوگوں کو ہلاک کیے جانے کی بعض کارروائیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ رامی عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ قصبے پر حملہ کرنے والے داعشی ارکان میں اکثریت کا تعلق غیر فعال گروپوں سے تھا اور وہ یہاں کے رہائشیوں اور بشار حکومت کے ہمنواؤں کو جانتے تھے۔