.

کرین حادثے کے متوفی دیت کے مستحق نہیں: مکہ عدالت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ کی ایک فوجداری کی عدالت نے مسجد الحرام میں کرین گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کا حق دیت مسترد کر دیا ہے۔ 27 یاد رہے 11ستمبر 2015 بمطابق ذیعقدہ 1436ھ کو حج کے موقع پر حرم کرین گرنے پر 108 افراد جاں بحق اور 238 زخمی ہوگئے تھے۔

عرب روزنامہ عکاظ نے فوجداری عدالت کے فیصلے سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حادثہ میں انتقال کرنے والا کوئی بھی دیت کا مستحق نہیں ہوگا کیونکہ کرین کے گرنے میں کسی بھی شخص کا عمل ثابت نہیں ہوا۔

اخبار کے مطابق عدالت نے 108 صفحات پر فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس پر 756 دستخط اور مہریں لگی ہوئی ہیں۔ عدالتی فیصلے کی دستاویز 25 صفحات پر مشتمل ہے جس میں تمام ملزمان کے بری ہونے کے اسباب بیان کئے گئے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ حرم کرین صحیح پوزیشن میں تھی اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ملزمان میں سے کوئی بھی کرین کے گرنے کرین حادثے کے متوفی دیت کے مستحق نہیں یہ حادثہ غیر معمولی شدید اندھی کی وجہ سے پیش آیا۔ بن لادن گروپ نے اس سلسلے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ گروپ وفات پانے والوں کے لواحقین کو دیت دینے کا بھی ذمہ دار نہیں۔ زخمی ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا بھی پابند نہیں۔ کرین گرنے سے جو نقصانات ہوئے ان کا زر تلافی بھی بن لادن گروپ پر واجب نہیں۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے عدالت کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بات بھی ریکارڈ کی ہے کہ پبلک پراسیکیوٹر نے حرم کرین کے حادثے میں ملزمان کے خلاف ایک بھی دلیل یا صحیح قرینہ پیش نہیں کیا۔ ایسی کوئی ٹھوس دلیل نہیں دی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ بن لادن گروپ واقعہ کا ذمہ دار ہے