.

الحشد الشعبی سرکاری ادارہ بن چکا ہے:العبادی کا ٹیلرسن کو جواب

کردستان کا تنازع مذاکرات سے حل کیا جائے:ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ایرانی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے بارے میں امریکی تحفظات مسترد کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الحشد عراق کے دوسرے سرکاری اداروں کی طرح ایک سرکارہ ادارہ بن چکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ اپنے شیڈول سے ہٹ کرگذشتہ روز اچانک مختصر دورے پر بغداد پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعظم العبادی کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔

دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ، کرکوک میں عراقی حکومت کے اقدامات، ملک کی سیاسی اور امن وامان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الحشد کے جنگجو ’عراق کے سپاہی‘ ہیں

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ بات چیت میں حیدر العبادی نے کرکوک میں فوج داخل کرنے کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکوک میں فوجی کارروائی کا مقصد ریاست کی رٹ قائم کرنا تھا۔

العبادی نے کہا کہ کرد عراق کے دیگر طبقات کی طرح قابل احترام باشندے ہیں۔ ہم ان کی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی دوسرے طبقات کی کرتے ہیں۔

الحشد الشعبی ملیشیا کے بارے میں حیدر العبادی نے کہا کہ الحشد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ملک کا دفاع کیا۔ اس لیے الحشد الشعبی کو دہشت گرد قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ الشعبی سے وابستہ جنگجو عراق کے سپاہی ہیں۔ الحشد الشعبی اب عراق کے دیگر سرکاری اداروں کی طرح ایک ادارہ بن چکی ہے۔

ٹیلرسن کا کرد قیادت سے مذاکرات پر زور

اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے عراق کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بالخصوص ’داعش‘ کے خلاف فتووحات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف عراقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔

ریکس ٹیلرسن نے عراق کی وحدت، سالمیت، خود مختاری پر زور دینے کے ساتھ تمام فریقین کو دستور پر کار بند رہنے کی تاکید کی۔ ان کاکہنا تھا کہ امریکا عراق میں کردستان کی قیادت اور بغداد حکومت کے درمیان تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے عراقی حکومت اور کرد قیادت کو تمام مسائل مذاکرات کی میز پرحل کرنے پر زور دیا۔

ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ عراق میں امن واستحکام کا فروغ ناگزیر ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیرخارجہ آٹھ روزہ دورہ ایشیا کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچے تھے، جہاں انہوں نے سعودی عرب کی قیادت سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وہ شیڈول سے ہٹ کر بغداد کے مختصر دورے پرآئے۔ جب کہ گذشتہ شام وہ افغانستان پہنچ گئے ہیں۔