.

اِدلِب آپریشن مکمل ہوگیا مگر ابھی اختتام کو نہیں پہنچا : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے شام کے شمال مغربی صوبے اِدلِب میں جاری فوجی آپریشن بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے تاہم ملحقہ علاقے عفرین کے حوالے سے معاملہ اختتام پذیر نہیں ہوا ہے جس پر کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ میں حکم راں جماعت جسٹس اینڈ پیس پارٹی کے ارکان کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ترکی کی فوج نے اکتوبر میں اِدلِب میں نگرانی کی چوکیاں قائم کرنے کا آغاز کیا تھا۔ یہ اقدام روس اور ایران کے ساتھ طے پائے جانے والے ایک معاہدے کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے تا کہ شامی اپوزیشن اور بشار حکومت کے درمیان لڑائی پر روک لگائی جا سکے۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ترکی کی کارروائی کا جانبی مقصد کرد فورسز پر قابو پانا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے 10 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ خطرات کا سلسلہ رکنے تک اِدلِب آپریشن جاری رہے گا تاہم بیان میں مقصود خطرات کا تعین نہیں کیا گیا۔

ادھر ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے 10 اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں جو شاید اس حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا بیان تھا کہا کہ شام میں سخت گیر اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول صوبے ادلب میں ترکی کا فوجی آپریشن مہاجرین کی لہر کو آنے سے روکنے کے لیے ہے۔

ترکی کی افواج نو اکتوبر کو سرحد عبور کر کے شام کے صوبے ادلب میں داخل ہو گئی تھیں۔ اس پیش رفت کا مقصد نگرانی کی چوکیاں قائم کرنا تھا۔