.

ایران نے حوثیوں کو نئے میزائل اور ڈرون طیارے فراہم کیے : المخلافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے باور کرایا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں امن اور استحکام کے لیے سب کے ساتھ ملک کر کام کر رہی ہے۔ العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کویت مشاورت کے بعد سیاسی عمل کے جمود اور یمن میں بحران کے خاتمے کی راہ میں حوثی ملیشیا اور اس کے حلیف معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں پر اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ المخلافی کے مطابق یمنی حکومت نے کویت میں اقوام متحدہ کے امن منصوبے پر دستخط کر دیے تھے تاہم باغی ملیشیا امن عمل کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

عبدالملک المخلافی کا یہ بیان پیر کے روز ریاض میں یمن میں امن عمل کی سرپرستی کرنے والے 18 ممالک کے وزراء کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔

یمنی وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے حوثی ملیشیا اور معزول صالح کو جدید ہتھیار اور میزائلوں کے علاوہ ڈرون طیارے اسمگل کرنے سے متعلق معلومات پر بھی روشنی ڈالی جن کو سعودی عرب کی سرزمین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے حوثی ملیشیاؤں کے لیے ہتھیاروں کی سپورٹ جاری رہنے تک یمن میں حالات پُر امن نہیں ہو سکتے"۔

المخلافی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثی ملیشیا اور معزول صالح پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈال کر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو سپورٹ کریں۔

الحدیدہ کی بندرگاہ کے حوالے سے یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم خصوصی ایلچی کی جانب سے تیسرے فریق کی بات کرنے کے باوجود ہم ان کی تجویز پر آمادہ ہو گئے۔ حکومت اپنی سیادت پر ڈٹی رہ سکتی تھی مگر ہم نے یمنی عوام کی خاطر رعایت پیش کی"۔

صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے بارے میں المخلافی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ باغی ملیشیا ہوائی اڈے سے نکل جائے اور اس کا کنٹرول اقوام متحدہ کی نگرانی میں ُان تربیت یافتہ عناصر کے حوالے کیا جائے جو 2014 کے دوران اسے چلا رہے تھے۔ اس طرح ہوائی اڈے کو کھولا جائے کیوں کہ کوئی ملک بھی ریاست کے خلاف باغی ملیشیا کے زیر انتظام ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والی پروازوں کا استقبال نہیں کرے گا۔