.

واشنگٹن ایرانی پاسداران انقلاب کو "سانپ کا سَر" شمار کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ گزشتہ دنوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے پالیسی کو واضح کرنے کے لیے کوشاں رہی۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے اس پالیسی کی تفصیلات سمجھنے کی کوشش کی جس کے لیے امریکی قومی سلامتی کونسل سے رابطے میں موجود شخصیات سے استفادہ کیا گیا اور ساتھ ہی وہائٹ ہاؤس میں مشرق وسطی سے متعلق سینئر ذمے داران کی بریفنگز کو بھی سنا گیا۔

ایران امریکی انتظامیہ کی نظر میں ناپسندیدہ

یہ بات واضح ہے کہ امریکی صدر ایرانی نظام کو کسی طور پسند نہیں کرتے اور اس پر سونے پہ سہاگا یہ کہ اہم فیصلوں کے سلسلے میں امریکی صدر کے گرد منڈلانے والی شخصیات بھی ایران کے حوالے سے سخت گیر مواقف کی حامل ہیں۔ ان میں وزیر دفاع جنرل میٹس ، قومی سلامتی کے مشیر جنرل مکماسٹر اور مشرق وسطی کے امور کے معاون سابق افسر جو رائیبون شامل ہیں۔ ان شخصیات کا یہ محسوس کرنا ہے کہ صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک حاصل ہونے والی امریکی فوج کی کامیابیاں مفت میں ایران کے ہاتھوں میں چلی گئیں۔ اس سلسلے میں سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو قابل ملامت سمجھا جا رہا ہے جس کے دور میں حالات اس نہیج تک پہنچ گئے۔

ایران ہی اصل مسئلہ ہے

گزشہ چند ماہ کے دوران امریکی انتظامیہ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کا جائزہ لیا اور اب ٹرمپ انتظامیہ اس بات کی قائل ہو چکی ہے کہ "مشرق وسطی میں تمام شورشوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے لہذا ایران تصرفات سے نمٹنا امریکی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ ہونا چاہیے اور بقیہ امور اس کے ذیل میں ہوں"۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کرسٹن جیمس کے مطابق ایران کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے امریکی صدر کی تقریر میں 1979 میں خمینی کے انقلاب کے بعد سے ایران کے تمام تر تصرفات کو لیا گیا۔ جیمس کا کہنا ہے کہ "امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی اب یہ ہے کہ شورشوں کا سبب بننے والے ایران کے معاندانہ تصرفات کو تنہا کیا جائے"۔ امریکی وزارت خزانہ کے پاس ایران بالخصوص ایرانی پاسداران انقلاب پر پابندیاں عائد کرنے کے وسیع اختیارات ہیں جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے نزدیک اس کے پاس بین الاقوامی میدان میں ایران سے نمٹنے کی ذمے داری ہے۔

عسکری روک

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے امریکی وزارت دفاع کے ترجمان برائے خلیجی امور و ایران سے مسلح افواج کے کردار کے بارے میں سوال کیا تو ایڈرین گیلوے نے وزیر دفاع جیمس میٹس کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر تہران خطے میں تعینات امریکی فوج کے ساتھ الجھا تو یہ ایران کی بڑی غلطی ہو گی۔ باراک اوباما کے دور صدارت میں ایرانی پاسداران کی جانب سے بین الاقوامی پانی میں موجود امریکی بحریہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ چلتی رہتی تھی۔ تاہم نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نوعیت کے تصرفات میں بڑی حد تک کمی آ چکی ہے۔

امریکیوں کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج ہیں۔ پہلا چیلنج ایرانی بیلسٹک میزائل اور دوسرا چیلنج ایران کی جانب سے یمن ، لبنان ، عراق اور شام میں اپنی پیروکار ملیشیاؤں کو ہتھیاروں کی فراہمی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان ایڈرین گیلوے کے مطابق امریکا اس وقت خطے میں اپنی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں کا منتظر ہے جن میں ہتھیاروں کی فروخت اور تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے علاوہ خطے میں امریکی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ موجودہ امریکی صدر کی انتظامیہ اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ ایران کو پاسداران انقلاب ، شیعہ ملیشیاؤں اور بعض عراقی جماعتوں کے ذریعے عراق میں گہرا رسوخ حاصل ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے نزدیک اسے عراقی فوج کے ساتھ طویل المیعاد اور گہرے تعلقات استوار کرنا ہوں گے اور اس کا مقصد ایسے عراق کو برقرار رکھنا ہے جو ایرانی رسوخ سے چھٹکارہ پانے کی قدرت رکھتا ہو۔

ایرانی رسوخ کا راستہ روکنا

ٹرمپ انتظامنیہ کے نزدیک یہ ایرانی رسوخ خطرناک ہے۔ ایک جانب ایران عرب ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم سے دُور ہے تاہم اس نے کئی دہائیوں سے اپنی پیروکار ملیشیاؤں کے ذریعے ان ممالک میں انارکی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان ملیشیاؤں میں لبنان میں حزب اللہ ، یمن میں حوثی جماعت کے علاوہ عراق میں متعدد شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے اپنی تقریر میں تہران کے تصرفات کا مقابلہ کرنے کو اپنی حکمت عملی کی پہلی شق قرار دیا۔ ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے کی شقوں اور بیلسٹک میزائل کے خطرے پر بھی روشنی ڈالی۔ امریکی حکومت کے نزدیک "سانپ کا سر" ایرانی پاسداران انقلاب ہے جب کہ عرب دنیا میں بقیہ شیعہ ملیشیائیں بِل کے چھوٹے مُنہ ہیں۔ اسی واسطے امریکا اولین طور پر پاسداران انقلاب پر ضرت لگانے کے درپے ہے اور اس پر پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ ایران کے اندر حرکت سے رُک جائے اور اپنے سیاسی و اقتصادی ماحول سے محروم ہونے کے علاوہ ان مالی اثاثوں سے بھی ہاتھ دھو لے جو وہ عرب ممالک میں ملیشیاؤں کو دیتی ہے۔

شراکت داروں اور حلیفوں کا کردار

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ذرائع نے امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے ذمے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن عرب ممالک کو اپنا دوست شمار کرتا ہے اور ان ممالک پر لازم ہے کہ وہ ایسے خیالات اور منصوبے پیش کریں جو ایرانی رسوخ کا مقابلہ کرنے میں کام آ سکیں۔ تمام امریکی ذمے داران نے پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں سمیت کسی بھی فریق کے خلاف عسکری مقابلے کی خواہش رکھنے کی تردید کی۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ خطّے میں شیعہ ملیشیاؤں کے رسوخ کے خاتمے میں ناکامی ایرانی رسوخ کا سلسلہ جاری رہنے کی راہ ہموار کر دے گی اور ساتھ ہی لبنان اور شام کے جنوبی علاقوں میں ان ملیشیاؤں اور اسرائیل کے درمیان براہ راست عسکری تصادم کا دروازہ بھی کھول دے گی۔